الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 121

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 121 نام سے موسوم ہے۔یہ نام ظاہر کرتا ہے کہ کتاب کے تین حصے ہیں۔پہلا حصہ Vinaya-Pitaka یعنی ضابطہ اخلاق پر مشتمل ہے۔دوسرا حصہ Sutta-Pitaka یعنی مکالمہ صداقت اور تیسرا حصہ Abhidhamma Pitaka ہے جسے تجزیہ مذہب کہا جاتا ہے۔Sutta Nipta کے 5 'The Chapter on going to the far shore بالفاظ دیگر دور ساحل کا سفر میں موت کی تسخیر کا مقصد بیان کیا گیا ہے جس میں حضرت بدھ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اپنی انا مٹا ڈالتے ہیں اور خدا کے ہو جاتے ہیں، موت ان کے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔البتہ یہ درست نہیں کہ یہ تحریریں غلط فہمیوں کا شکار ہوگئی ہیں اور مکتی کے بارہ میں برہمن سوچ سے خلط ملط ہو گئی ہیں۔حضرت بدھ نے بڑے واضح الفاظ میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اسی دنیا میں جسمانی موت سے پہلے ہی دوسرے عالم کا مشاہدہ کر لیتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک کوئی شخص اسی زندگی میں موت سے گزرے بغیر اخروی زندگی کو نہیں پاسکتا۔یہ تصور قرآنی تعلیم کے بہت قریب ہے۔حضرت بدھ نے تعلیم دی کہ جب انسان کامل طور پر خدا کا ہو جاتا ہے تو وہ زندگی اور موت سے بالا تر ہو کر دائی زندگی پالیتا ہے۔اس باب کے آخر پر حضرت بدھ کا ایک پیروکار پنجیا (Pingiya) اپنے استاد کے کمالات کا ذکر کرتا ہے جن کے نتیجہ میں اس نے بدھ مت کو اختیار کیا۔یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ ضعیف العمر اور قریب المرگ ہے پنجیا اپنی گفتگو کو یوں سمیٹتا ہے:۔میں یقیناً اس کے پاس جاؤں گا جو غیر متغیر اور غیر متزلزل ہے جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔اس میں ذرہ بھی شک نہیں۔اس لئے مجھے انہی لوگوں میں شمار کرو جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔650 اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت بدھ کا ایک مرید یہ خواہش اور تمنا رکھتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد اپنے آقا کے حضور حاضر ہو گا جو ایک غیر متغیر، غیر متزلزل اور بے مثل و مانند هستی ہے۔خدا کی یہی تعریف بعینہ دوسرے مذاہب میں بھی پائی جاتی ہے۔Tripitaka کے حصہ دوم Sutta-Pitaka میں، جو مزید پانچ کتابوں میں منقسم ہے اور بدھ کے بہت سے مکالمات پر مشتمل ہے، نہایت دلچسپ پیرائے میں حضرت بدھ کے عقائد کا ذکر