الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 120
120 بدھ مت ملتے ہیں جو شاہراہوں اور تجارت کیلئے بنائے گئے راستوں پر بھی موجود تھیں۔ذیل میں ہم اس قسم کی تحریرات کے دو نمونے پیش کرتے ہیں۔دریائے کٹک کے مشرقی ساحل پر جگن ناتھ سے 20 میل کے فاصلے پر موجود ایک چٹان Pardohli پر یہ تحریر کندہ ہے:۔۔میں دوبارہ اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اس زندگی کی چیزوں کی شدید خواہش نافرمانی ہے۔اور یہ بھی نافرمانی میں داخل ہے کہ ایک شہزادہ دنیوی اقتدار کے حصول کی شدید خواہش رکھے جبکہ وہ جنت کا وارث بن سکتا ہو۔تو یہ کرو اور خد (Is'ana) پر ایمان رکھو جوفرمانبرداری کا مستحق ہے۔میں تم پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس جنت کے حصول کیلئے اطاعت جیسا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔تم ہمت کر کے یہ بیش بہا خزانہ حاصل کر لو ، 3 اس عبارت میں اسانا (Is'ana) کا لفظ شو دیوتا (Shiv Devta) یعنی خدا کیلئے استعمال ہوا ہے۔(ملاحظہ ہو سنسکرت - انگریزی ڈکشنری از Shivram Apte)۔ساتویں مزار (Stupa) سے متعلق یہی مصنف ذیل کا ایک اور حوالہ دیتا ہے: وو ' Dovanampiya Piyadasi یوں مخاطب ہوا: اسی لمحہ سے میں نے مذہبی تبلیغ کا حکم دیا ہے اور ایسے مناسک کا نفاذ کیا ہے جن کی اتباع میں انسان سیدھا راستہ اختیار کر لے گا اور خدا کی عظمت کے گیت گائے گا۔4 ان اقتباسات سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ ابتدائی ماخذ کے مطابق حضرت بدھ کا خدا پر پختہ ایمان تھا۔مستند اور ثقہ ہونے کے لحاظ سے دوسرا اہم ماخذ بدھ مت کا وہ مذہبی لٹریچر ہے جو مہاتما بدھ علیہ السلام کے پانچ سو سال بعد منظر عام پر آیا۔اس لٹریچر میں بھی کافی شہادت موجود ہے کہ حضرت بدھ نہ تو ملحد تھے اور نہ ہی لا ادری، بلکہ وہ تو اللہ تعالی پر پختہ ایمان رکھنے والے تھے۔یہاں خاص طور پر Theravada کے متن کا حوالہ دیں گے جو Tripitaka یعنی تین ٹوکریوں کے یہاں خدا کے لفظ کا واحد کے صیغہ میں استعمال بہت اہم ہے۔(مصنف) ہم