الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 103

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 103 جائے خواہ وہ ثبت ہو یا کوہ ہمالیہ، ہر جگہ انسان ہی انسان نظر آئیں گے جن کے پاس کھانے کیلئے ایک ذرہ بھی نہیں ہوگا۔کرموں کے مسئلہ پر دوبارہ غور کرتے ہوئے اب ہم اس کا خالصۂ علمی لحاظ سے جائزہ لیتے ہیں۔اس نظریہ کے مطابق زندگی کی ہر نسل کا مقدر مکمل طور پر اپنے سے پہلی نسل کے کرموں سے وابستہ ہے۔روح اپنی ذات میں ایک غیر جانبدار اکائی ہے، اسی طرح اس کے ساتھ جڑنے والا مادہ بھی۔اس طرح اصل سوال، جس کا حل ہندو علماء پیش کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں، یہ ہے کہ اس سارے تخلیقی عمل کے پیچھے کونسی خدائی حکمت کارفرما ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ایک منصف خدا ہے تو وہ انسانوں میں ایک دوسرے کے بالمقابل جانبداری کا سلوک کیوں کرتا ہے؟ یہ وہ بظاہر نا قابل حل عقدہ ہے جس کے جواب میں وہ لامتناہی کرموں اور ان کے نتیجہ میں دی جانے والی جوابی سزاؤں کے چکر کا فلسفہ پیش کرتے ہیں۔روح کے جون بدلنے کا یہ وہ اصول ہے جو اسے علت و معلول، جرم وسزا اور نیکی و جزا کے مستقل چکر میں ڈال دیتا ہے۔اس کے برعکس دنیا کے دیگر بڑے مذاہب میں خدا کا تصور ایک ایسی قادر مطلق اور برتر ہستی کا ہے جو محض اپنے ارادہ سے جو چاہے پیدا کر سکتا ہے۔وہ مالکیت تامہ رکھتا ہے، اپنی مخلوق سے جیسا چاہے سلوک کر سکتا ہے۔وہ کلیہ با اختیار ہے اور جو چاہے بنا سکتا ہے۔وہ تخلیقی عمل میں عدل کے اصولوں کا محتاج نہیں ہے تا ہم کمال تام، حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کی صفات سے متصف ہونے کی بنا پر وہ کسی بھی نوع سے متعلق جاندار کو اس کے مناسب حال تمام اندرونی و خارجی ضروریات بکمال تام مہیا فرما تا ہے۔یہاں تک کہ اپنی تھی اور محدود عملداری میں ایک امیبا (amocba) بھی اتنا ہی خوش وخرم اور سرشار رہتا ہے جتنا ایک پرالشکوہ تخت پر بیٹھا ہوا کوئی بادشاہ۔ہندوؤں کی لوک داستانوں میں مذکور خدا تعالیٰ کا مختار کل ہونا اس طور پر ثابت نہیں ہے۔یعنی جب وہ کسی چیز کا خالق ہی نہیں ہے تو اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مادہ اور روح کی آزادی میں دخل اندازی کرے اور انہیں اپنا غلام بنالے۔نیز تخلیق کے ہر فعل پر اختیار کا سوال بھی پیدا ہوگا کہ کسی کو اوروں سے بہتر کیوں بنایا جائے یا اسے تخلیق کے مدارج میں بلند تر مقام پر فائز کیا جائے؟