الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 75
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 75 بجز کا یہی درس ہے جس پر سقراط نے بھر پور زور دیا ہے کہ انسان اس وقت تک حقیقی علم حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی لاعلمی کا اقرار نہ کرلے اور یہ عرفان نہ پالے کہ صراط مستقیم کا حصول آسمانی ہدایت کے بغیر ناممکن ہے۔سقراط جب ایک فرضی کاریگر کے حوالہ سے بات کرتا ہے تو دراصل وہ علامتی زبان میں بالواسطه انسان ہی کا ذکر کر رہا ہوتا ہے۔اس کے نزدیک انسان اپنے علم کے بارہ میں دھوکہ کا شکار ہے حالانکہ جب تک وہ خود کو عالم سمجھتا ہے تب تک اسے علم حاصل کرنے کی ضرورت کا احساس نہیں ہو سکتا۔پس سقراط نے اپنے پیغمبرانہ فرائض کی ادائیگی میں اشاروں کی زبان کا طریق اختیار کیا ہے۔اس کا مشن تو یہ ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو تخلیق انسانی کے اس اخلاقی ، روحانی اور الہی مقصد سے آگاہ کرے جسے وہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔اکثر انسان تو شطرنج کے مہروں کی طرح ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ وہ کیوں حرکت کر رہے ہیں۔انہیں اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ انہیں کون استعمال کر رہا ہے۔ایسے غافل انسان نہ تو حقوق اللہ سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی حقوق العباد سے۔اس صورت حال کی اہمیت کو سمجھانے کیلئے سقراط انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے جہاں وہ دنیوی زندگی میں کئے گئے اعمال کا جواب دہ ہو گا۔لیکن سیکولر فلسفی حیات بعد الموت کی بات کبھی نہیں کرتے۔یہ کام اور یہ فرض تو انبیاء کے سپرد ہوتا ہے۔ہماری خواہش تو صرف اتنی ہے کہ کاش گتھری کو وہ الفاظ بھی یاد ہوتے جو اس نے اپنی اسی کتاب میں سقراط کے بارہ میں استعمال کئے ہیں۔خصوصاً مندرجہ ذیل الفاظ تو بے حد اہم ہیں جن کے بارہ میں خود مصنف کا دعویٰ ہے کہ سقراط نے اپنی موت سے ذرا پہلے کہے تھے: اگر اکثر نہیں تو بہت سے لوگ ایسے ضرور تھے جو سقراط سے اختلاف رائے تو رکھتے تھے لیکن اس کی موت کے ہرگز خواہاں نہ تھے۔وہ یقیناً بہت خوش ہوتے اگر سقراط کو ایتھنز سے ہجرت 4<< کرنے پر آمادہ کر لیا جاتا۔44 سقراط نے اس تجویز کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ: اس نے عمر بھر ایتھنز کے باشندوں کیلئے وضع کردہ قوانین سے استفادہ کیا ہے۔اب اگر وہی