الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 74

74 يوناني فلسفه رہتے ہیں۔اس کے نزدیک یہ ایک ایسی جہالت ہے جس کی موجودگی میں کوئی انسان در حقیقت انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک کاریگر اس وقت تک کاریگر نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے کام کی سوجھ بوجھ نہ رکھتا ہو یا وہ اپنی بنائی ہوئی چیز کا مقصد ہی نہ جانتا ہو۔بنی نوع انسان کی یہی وہ جہالت ہے جس کی طرف توجہ مبذول کرانے کیلئے سقراط عمر بھر کوشاں رہا۔اسے یقین تھا کہ تخلیق انسانی کے الہی مقصد کو انسان محض اپنی کوششوں سے حاصل نہیں کر + سکتا۔انسان نہیں جانتا کہ اپنی تخلیق کا مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی کو کن خطوط پر استوار کرے۔اگر چہ سب کچھ جاننے کے دعوئی کے باوجود وہ کچھ بھی علم نہیں رکھتا۔اور یہی اس کے نزدیک سب سے بڑی جہالت ہے۔arete کے معنی دراصل اپنی ہستی کے مقصد کی تلاش ہے مگر کامل عجز اور اپنی لاعلمی کا اعتراف کئے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔صرف اسی صورت میں انسان اس قابل ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے جہالت کے اندھیروں سے نکال کر درجہ بدرجہ علم کی روشنی کی طرف اس کی رہنمائی فرمائے۔سقراط کے نزدیک حقیقی علم صرف خدا تعالیٰ کا عطا کردہ علم ہے۔اس کے سوا باقی سب جہالت ہے۔قرآن کریم بھی بعینہ یہی پیغام دیتا ہے۔وہ تمام علم خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے یہاں تک کہ فرشتے بھی اس کے حضور اپنی لاعلمی کا اقرار کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں: سبحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ۔(البقرة 33:2 ) ترجمہ: پاک ہے تو۔ہمیں کسی بات کا کچھ علم نہیں سوائے اس کے جس کا تو ہمیں علم دے۔یقینا تو ہی ہے جو دائمی علم رکھنے والا (اور ) بہت حکمت والا ہے۔قرآن کریم بار بار یاد دلاتا ہے کہ انسان کو اس وقت تک سیدھے راستے کا کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خدا کے در کا فقیر بن کر اپنے لئے اس سے رہنمائی طلب نہ کرے: إيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة 5:1-6) ترجمہ: تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ہمیں سیدھے راستہ پر چلا۔