جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 143
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 143 پھر آپ کا چہرہ بہت سرخ ہو گیا اور جوش کے ساتھ پائینتی کی طرف یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا نیزہ ہاتھ میں پکڑو اور پھر تم کامیاب ہو۔میں دوڑا کہ سامنے ہو کر پوری زیارت کرلوں۔جب سامنے گیا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کھڑے ہیں۔اس خواب کی میں اسی روز یا اس سے دوسرے روز ایک نقل حضرت قبلہ خلیفہ اُتر المسیح مولوی نور الدین صاحب کو لکھی۔اور اس کے ساتھ ایک نقل صاحبزادہ صاحب کو اور ایک شیخ یعقوب علی صاحب کو لکھ دی۔اور یہ خواب میں نے بعض احباب چوہان اور جہلم شہر کے روبرو بھی بیان کی جو اس وقت تک گواہ موجود ہیں۔میں نے حضرت قبلہ کو اس کے ساتھ اس کی تعبیر جو میرے خیال میں آئی وہ بھی تحریر کی۔وہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مردہ گویا اسلام مردہ ہے۔پرانے فیشن کے مولوی نہیں چاہتے کہ اسلام پھر زندہ ہو۔ہاں کوئی رحمن کے فضل کا ہاتھ ایسا پانی پلا دے گا جس سے اسلام پھر زندہ ہو جاوے گا اور اُس کی زندگی کی ترکیب یہ ہوگی که مسلمان لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا نیزہ ہاتھ میں پکڑلیں ، اور یہ کامیابی صاحبزادہ صاحب کے ہاتھ سے انشاء اللہ ہوگی۔حضرت قبلہ نے جو الفاظ اس کے جواب میں مجھے اپنی قلم سے لکھے وہ یہ ہیں۔خواب بہت عمدہ ہے اور تعبیر یہی صحیح ہے اور انشاء اللہ اس طرح پوری ہو گی۔تم خود بہت ست ہو، اس کے دور کرنے کی کوشش کرو۔میرے لئے تو یہ خواب حضرت صاحبزادہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی رہبر ہوئی۔یہ خواب نہ دلی خیالات کا خاکہ ہو سکتی ہے اور نہ یہ بناوٹی ہو سکتی ہے۔میں نے اُسی روز دل میں عہد کر لیا تھا کہ حضرت قبلہ کی وفات کے بعد اگر صاحبزادہ صاحب کے سوا کوئی اور شخص خلیفہ بنے تو بھی میں انشاء اللہ انہیں کے ہاتھ پر بیعت کروں گا خواہ یہ کسی کی بیعت کریں۔" ( الفضل 22 مئی 1914ء)