جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 135
خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 135 دیر بعد لاہور سے ایک تار بدیں مضمون پہنچا۔کوئی امام متفق طور پر منتخب نہیں ہوا۔قومی فیصلہ کا انتظار کرو۔یہ سیکرٹری صدر انجمن کی طرف سے تھا۔مکان پر پہنچتے ہی بعد از نماز ظہر میں نے حضرت مولوی میر حمد سعید صاحب سے عرض کی کہ یہ عاجز انصار اللہ میں داخل ہے اور چونکہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام و حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام کی طرف سے اجازت بیعت ہے۔اس لئے اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے خلیفہ کا تقرر آپ فرمادے۔میرا عہد بیعت منظور فرما دیں کہ اس کا سب سے پہلے ماننے والا ہوں چنانچہ چند اور احمدی بھائی ( میر فضل احمد صاحب برادرسید بشارت احمد صاحب ، مومن حسین صاحب محمد غوث صاحب جو اس وقت موجود تھے وہ تمام ساتھ شامل ہو گئے ) اور سب نے حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر عہد کیا، اور انہوں نے خود بھی یہی فیصلہ دیا ، کہ اب حضرت صاحبزادہ صاحب کا دور مبارک ہے اور ہم سب آپ کی خدمت میں بیعت کی درخواست کرتے ہیں اور ایک اپنی خواب بھی دوبارہ سنائی، جس کو قریباً عرصہ پانچ سال گزرا ہے۔کہ آپ نے دیکھا تھا اور مجھے خوب یاد ہے کہ انہی دنوں میں میں نے یہ خواب آپ سے سنا تھا انہوں نے دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انبیاء کی جماعت میں ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح صدیقین کی جماعت میں ہیں، اور آپ کے بعد ایک نو جوان ایک بڑی جد و جہد کے ساتھ بلند گھاٹیوں پر اس قدر سرعت سے چڑھ رہے ہیں کہ نظر کام نہیں کرتی اور وہ انبیاء کی صف میں ہیں۔ان کی محنت اور کوشش کے سبب ان کی پیشانی مبارک پر بہت پسینہ بہہ رہا ہے اور وہ پسینہ میں نے اپنی انگلیوں سے پونچھ کر ایک شیشی میں جمع کر لیا ہے اور اس نو جوان سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ اس صدیق کے بعد اب ہمارا بھی کام ختم تھا مگر میں آپ کے کام دیکھنے کے لئے رہ گیا ہوں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے یہ خواب حضرت خلیفہ المسیح کی