جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 133
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 133 ہو گیا تو خواجہ کمال الدین صاحب نے خلیفہ رجب الدین کو کہا کہ فلاں کمرہ اپنے گھر کا خالی کروا دو۔کیونکہ وہاں مشورہ کرنا ہے میں گھر تو چلا آیا مگر میرے قلب پر اس بات کا بہت اثر تھا جب رات کو سو گیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک اونچی سقف کا مکان ہے جس کے چھت میں زنبوروں کا ایک چھتہ لگا ہوا ہے۔تب میں نے ایک ڈہیلہ اس کو مارا تو وہ فوراً گر گیا اور زنبور اڑ گئے اور منتشر ہو گئے۔یہ خواب میں نے اکثر احباب کو جماعت میں بتادی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور اب بھی ویسا ہی ہوگا کہ وہی سلسلہ مخالفت کا یہاں تک پہنچتا ہے۔دوسری یہ عرض ہے کہ جب مولوی صاحب رضوان اللہ گھوڑے سے گر گئے اور چوٹ شدید سے بیمار ہو گئے۔تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک قبر کھدی ہے اور بہت سے آدمی وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور مولوی صاحب مرحوم مغفور کا جنازہ ایک چار پائی پر رکھا ہے۔قبر کے اندر میت رکھنے کے واسطے مشرق کی طرف سے ایک راستہ ہے۔میاں نبی بخش صاحب جو اس سلسلہ کے پرانے خادم ہیں اور میرے ساتھ دفتر میں بھی ملازم ہیں۔وہ قبر کے اندر گئے اور وہاں قبر میں لیٹ کر کہنے لگے قبر خوب وسیع ہے۔باہر آگئے تب سب لوگوں میں ایک شور اُٹھا، کہ خلیفہ کون ہونا چاہئے ایک آدمی نے با آواز بلند پکارا کہ میاں محمود صاحب جو مستحق خلافت ہیں یہاں موجود ہیں ان کے ہاتھ پر بیعت ہونی چاہئے تب سب نے خوشی ظاہر کی۔یہ خواب بھی میں نے حضرت خلیفہ اسی مرحوم کی خدمت میں روانہ کر دیا اور جماعت میں بھی اکثر احباب کی خدمت میں بیان کر دیا۔چنانچہ میاں مولا بخش اور میاں نبی بخش صاحب بھی اس بات کے شاہد ہیں۔21 تاریخ کی صبح کو مجھے الہام ہوا الحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُرِينَ " 22 تاریخ کو صبح کے وقت الہام ہوا۔لَمِنَ الْمُقَرَّبِين - 23 تاریخ کی شام کے بعد قریباً 8 بجے مجھے کشفی طور پر دکھایا گیا کہ احمد یہ بیت الذکر میں کچھ لوگ باہر اور کچھ اندر بیٹھے ہوئے ہیں باہر والے لوگوں سے کئی آدمی اُٹھ کر ہنستے ہیں اور بیعت کردہ اشخاص سے بغلگیر ہوتے