جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 48
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 48 " میں نے امام بنے کی کبھی خواہش تک نہیں کی۔اللہ تعالیٰ نے تم سب کو گردنوں سے پکڑ کر میرے آگے جھکا دیا۔دیر کی بات ہے کہ میں نے ایک رؤیاء دیکھی تھی کہ میں کرشن بن گیا۔اس کا نتیجہ اس وقت میری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔یہ مطلب ہے ذَالِكَ بِمَا عَصَواوَّ كَانُوا يَعْتَدُونَ (البقره: 62) پہلے انسان ادنی نافرمانی کرتا ہے پھر ترقی کرتا کرتا حد سے بڑھ جاتا ہے۔" ( خطبات نور صفحہ 622)۔" یہاں ایک رؤیاء کا درج کرنا جو بتاریخ 12 اکتوبر 1906ءکو بمقام امروہہ خاکسار کو ہوئی تھی بحکم تحدیث بالنعمہ کے ضروری ہے۔12 تاریخ کی شب کو میں نے دیکھا کہ میں کسی شہر میں ہوں اور ایک مکان میں ایک تخت پر بیٹھا ہوا ہوں کچھ لوگ تخت سے نیچے بیٹھے ہیں اور کچھ لوگ تخت کے اوپر بھی ہیں اور میں بڑے زور وشور سے صرف (الفاتحہ: 5) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين کی تفسیر سے مسلک احمدیہ اور دعاوی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو ثابت کر رہا ہوں۔" ( خطبات نور صفحہ 235) لا تُحِلُّوا شَعَائِرَ الله جن چیزوں سے اللہ پہچانا جاتا ہے۔ان کی بے حرمتی مت کرو۔ہم نے قرآن مجید سے خدا کو پہچانا۔اس لئے اس کی بے حرمتی جائز نہیں۔بھلا یہ حرمت ہے کہ اس پر پاؤں رکھ لو۔یا اور کتابوں کے نیچے رکھو۔یا یونہی صفوں پر ڈال دیا جاوے۔میں نے بھی تمہیں پہچان کی راہ بتائی ہے۔میری بھی حرمت کرو۔" ( حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 74)