جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 472
472 خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے امیر مقامی بنے رہے ہیں۔یہ ہے خلاف توقع۔سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خلیفہ کی موجودگی میں کوئی شخص اتنا لمبا عرصہ امیر مقامی بنارہے۔وہ امارت مقامی جو خود خلیفہ کی موجودگی میں امیر مقامی وہی ہوتا ہے۔پس آپ عملاً میری جگہ بیٹھ گئے یعنی جس کرسی پر میں بیٹھا کرتا تھا اس پر میرے کہنے کے مطابق آپ براجمان ہوئے اور آپ نے تمام امور کو نہایت بہادری سے سرانجام دیا۔" وہ بادشاہ آیا " کے الہام کے متعلق فرماتے ہیں۔فرمایا دوسرے نے کہا ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے۔یعنی اس الہام کے ساتھ یہ آواز بھی آئی۔قاضی حکم کو بھی کہتے ہیں۔قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کو رد کرے۔یہ خوبی بھی حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب میں غیر معمولی طور پر پائی جاتی تھی۔باطل کور دکرنے کے معاملے میں اتنا بہادر انسان میں نے اور شاذ ہی دیکھا ہو۔ہوں گے مگر جو میں نے دیکھے ہیں ان میں سے ان سے زیادہ جرات کے ساتھ باطل کو رد کرنے والا اور کوئی نہیں دیکھا۔خلافت کے عاشق اور فدائی اور میں جو ان کے سامنے ایک چھوٹا سا بچہ تھا اور بچپن میں ان کے نظام میں ماریں بھی کھائی ہوئی ہیں اس طرح سامنے وفا کے ساتھ ایستادہ ہوئے ہیں جیسے اپنی کوئی حیثیت نہیں رہی اور بھائیوں میں سے یا اپنے دور کے عزیزوں میں سے اگر کسی نے ذرا بھی زبان کھولی ہے میرے متعلق تو اتنی سختی سے اس کا جواب دیا ہے کہ جیسے رد کرنے کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں ، رد کرنے کے عمل کو اتنی سختی سے استعمال کیا ہے کہ میں حیران رہ گیا سن کر۔بارہا میں نے سنا اور