جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 374
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 374 سفید۔درمیانی عمر سفید بے داغ لباس پہنے نہایت موثر اور خوبصورت لہجے میں اس گروپ کی جانب چہرہ کئے تقریر فرما رہے ہیں۔لوگ عقیدت سے ان کی تقریریں سن رہے ہیں۔میرے باقی افراد خاندان وہیں پر ہیں میں بھی ان میں جا کر بیٹھ جاتی ہوں۔مگر یہ دیکھ رہی ہوں کہ اس قبلہ رخ والے گروپ کے علاوہ سامنے کی جانب ایک گروپ اور بھی ہے۔اس دوسرے گروپ کے مخاطب شخص کا تعلق لاہور سے ہے۔وہ اپنے اردگر دلوگوں سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہا ہے - گویا ساز باز کر رہا ہو۔اس کے گروپ میں بھی کافی لوگ شامل ہیں مگر ان کی حیثیت شرکاء کی نہیں تماشبین کی سی ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ یہ خلافت کے امیدوار ہیں۔لیکن یہ گروہ منافقین کا گروہ ہے۔اور اس کی موجودگی کسی بھی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں۔جب کہ تکلیف دہ امر جود یکھنے میں آرہا ہے وہ تیسرے گروپ کی موجودگی ہے۔جس کے لوگ قبلہ کی جانب پشت کئے بیٹھے ہیں۔ان کی صحیح تعداد تو یاد نہیں اغلب 15 یا 20 لوگ ہیں اور ان سے مخاطب شخص نہایت بلند آواز میں اور چیخ چلا کر تقریر کر رہا ہے۔انداز ایسا ہے گویا کوئی مخبوط الحواس شخص ہو۔اس نے بھی سفید کپڑے پہن رکھے ہیں۔جو کہ اب انتہائی غلیظ ہیں اور سلے ہوئے ہیں۔اس کے منہ سے مارے غصے کے کف بہ رہی ہے۔اور وہ ہاتھ ہر لہرا کرزورشور سے لوگوں پر اپنا موقف واضح کر رہا ہے۔اس شخص کی حرکات عجیب و غریب ہیں اور دولکڑی کی سیڑھیاں جیسے وکٹری سٹینڈ کی ہوتی ہیں ان پر ایک مرتبہ کھڑا ہے۔اس شخص کی حرکات پہلے گروپ ( عبدالحق گروپ) کے امام کے لئے بھی پریشان کن ہیں۔اور قبلہ رخ بیٹھے افراد کو بھی تکلیف پہنچا رہی ہیں۔لوگ پریشان ہیں کہ کس طرح اس مصیبت سے نجات حاصل کریں۔میں پلٹ کر بغور اس شخص کو دیکھتی ہوں تو وہ مرزا رفیع احمد صاحب ہیں۔میں بھی ان کی حرکات سے پریشان ہو کر احاطہ سے باہر نکل کر اس جگہ چلی جاتی ہوں۔جہاں پر پہلے ہی جماعت کے اور بہت سے مخلصین اس فتنہ اور پریشانی سے نجات حاصل کرنے