جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 373
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 373 حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرف دیکھا تو آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے بھی اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر رکھے تھے گویا آپ اور آپ کے ساتھ دوسرے بزرگ سبھی اس انتخاب پر رضا مند ہیں اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔میں نے دوسرے یا تیسرے روز یہ خواب مکرم خلیفہ صباح الدین صاحب مربی سلسلہ کو سنائی۔انہوں نے خاموشی اختیار کرنے اور دعا کرنے کا مشورہ دیا۔تاریخ تحریر 20 جون 1982ء) i۔۴۸ مکرمہ تسنیم لطیف صاحبہ بنت ڈاکٹر عبد اللطیف صاحب سرگودھا اکتوبر 1980ء میں یہ خواب میں نے دیکھا کہ ایک مستطیل نما احاطہ ہے( جس طرح بیت مبارک کا مستقف حصہ ہے ) جو کہ اونچائی پر واقعہ ہے۔وہاں سیڑھیاں چڑھ کر جایا جاتا ہے۔میں یہ مجھتی ہوں کہ یہ ہماری جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔اور وہاں پر کوئی تقریب رونما ہونے والی ہے۔جس کے لئے یہ اجتماع ہے۔میں بھی شرکت کی غرض سے احاطہ کے اندر داخل ہوتی ہوں۔تو ذہن میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ ہمارے خلیفہ ہی ہوں گے جن کی ہم تقریر سنیں گے۔مگر وہاں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی اور خلیفہ ہیں۔بلکہ جماعت کے افراد تین گروہوں میں بٹے ہوئے تین مقررین کی تقاریر سن رہے ہیں۔پہلا گروپ جو کہ تعداد میں سب سے بڑا ہے اس کے لوگ قبلہ رخ بیٹھے ہیں اور ایک شخص جن کا نام عبدالحق ہے ( ہمارے سرگودھا کے امیر جماعت نہیں ) چہرہ نورانی ، رنگت بہت