جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 304
خلافت ثالثه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 304 " 1921 میں حضور خلیفہ لمسیح الثانی (نوراللہ مرقدہ ) بغرض تبدیلی آب و ہوا کشمیر تشریف لے گئے اور ایک ڈیڑھ ماہ کے لئے احمدی ڈار خاندان کے گاؤں ناسنور میں قیام پذیر ہوئے۔ان ہی دنوں حضور نے کوثر ناگ جھیل کی جو 14 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے سیر بھی کی۔سیر کے لئے جو قافلہ بنا قریباً 30 آدمیوں پر مشتمل تھا۔جن میں مردوں کے علاوہ مستورات اور بچے بھی شامل تھے۔جھیل چونکہ بہت زیادہ بلندی پر واقع تھی اور قافلہ میں بچوں والی عورتیں ، چھوٹے بچے اور مردوں میں بعض بھاری جسم والے اور پیدل چلنے کی عادت نہ رکھنے والے مرد شامل تھے۔اس لئے قافلہ بڑے تنگ وقت میں جھیل پر پہنچا۔اور اُسے وہاں ٹھہرنے کا بہت کم موقعہ ملا۔کیونکہ بارش اور ژالہ باری کا خطرہ تھا۔اس لئے حضور بہت جلد واپس لوٹ آئے۔لیکن اس کے باوجود قافلہ بارش کی زد میں آگیا کچھ دور چلنے کے بعد حضور نے قافلہ کے افراد کی حاضری لی اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو موجود نہ پا کر اونچی آواز سے پکارا۔ناصر احمد کہاں ہے۔کشمیری بھائیوں میں سے ایک نے جواب دیا۔حضور وہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے ہمراہ چشمہ کی دوسری جانب سے تشریف لا رہے ہیں۔حضور سفر جاری رکھیں۔وہ بھی انشاء اللہ پہنچ جائیں گے۔حضور نے بڑے زور سے فرمایا ! میں اپنے بیٹے کو چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتا۔لیکن جب کشمیری بھائیوں نے یقین دلایا کہ وہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے ساتھ درست راستہ پر آرہے ہیں اور کچھ دور آگے جا کر ہم نے بھی اُن کے ساتھ مل جانا ہے تو حضور آگے چل پڑے۔آج کے واقعات کو دیکھ کر اس بات کا علم ہوتا ہے کہ حضور کو اس وقت حضرت