جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 269 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 269

خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے 269 مجھے دو شخص پھرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔یہ دونوں اکیلے اکیلے پھرتے تھے۔ان سے آگے گذر کر ہال کے گیٹ پر ماسٹر فضل داد صاحب کھڑے ہیں۔میں وہاں پہنچا ہوں تو انہوں نے کہا کہ آپ اندر چلے جائیں ان کے اجازت دینے پر میں ہال کے اندر داخل ہو کر دیکھتا ہوں کہ تمام نمائندگان کرسیوں پر تشریف فرما ہیں۔اور ان کے ہاتھ میں ایک ایک سبز جھنڈی پکڑی ہوئی ہے۔وہ سبز جھنڈی چھوٹے سرکنڈے پر لگی ہوئی ہے۔اور ان سب کے سامنے ایک بہت بڑ اسٹیج بنا ہوا ہے۔اور اس پر ایک مربع شکل کی کافی بڑی میز بچھی ہے۔اس کے ساتھ ایک کرسی لگی ہوئی ہے۔جس پر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی تشریف فرما ہیں۔حضور کے سر پر سفید پگڑی ہے اور نہایت پُر وقار اور پر نور چہرہ ہے۔جیسا کہ حضور بالکل جوان ہوئے ہیں۔میں یہ منظر حیران ہوتے ہوئے دیکھ کر اپنے دل میں خیال کرتا ہوں کہ یہ عجیب بات ہے کہ حضور کی وفات ہو چکی ہے اور حضور خودہی نئے خلیفہ کا انتخاب کروار ہے ہیں۔اس کے بعد حضور کے سامنے خلافت کے لئے دو نام پیش ہوئے۔پہلا نام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا اور دوسرا نام صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا تھا۔حضرت صاحب نے نمائندگان کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا جو دوست حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو چاہتے ہیں کہ وہ خلیفہ ہوں وہ ہاتھ کھڑے کریں۔اس پر تمام نمائندگان نے یکدم اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی سبز جھنڈیاں ہلائیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا جو دوست مرزا ناصر احمد صاحب کو چاہتے ہیں وہ ہاتھ کھڑے کر دیں۔اس پر پھر تمام لوگوں نے اسی طرح یکدم سبز جھنڈیاں بلند کر کے ہلائیں۔یہ دیکھ کر میں حیرت سے کہتا ہوں کہ اس طرح فیصلہ تو کوئی نہ ہوا۔کیونکہ سب ہی نمائندے دونوں کے حق میں ہیں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔