جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 243 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 243

خلافت ثالثه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 243 جماعت میں " بزرگ صاحب" کے نام سے مشہور تھے۔وہ صاحب کشف اور صاحب الہام تھے۔مکرم نیک محمد خاں صاحب غزنوی ربوہ ان کا 1932 ء کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ایک دن عصر کی نماز کے لئے " بزرگ صاحب" مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے اور میں اُن کے ساتھ ہی مسجد میں بیٹھا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ بزرگ صاحب نے ایک طرف نہایت غور سے دیکھنا شروع کیا۔میں نے اس وقت تو ان سے کچھ نہ پوچھا۔لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ اس وقت وہاں سے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب گزر رہے تھے تو بزرگ صاحب نے اس وقت اُن کی طرف منہ کر لیا تھا۔اور ان کی طرف دیکھنے کے لئے ہی مڑے تھے۔جب نماز ختم ہوگئی اور وہ اپنے کمرے میں مہمان خانہ تشریف لے گئے تو اس وقت میں نے ان سے دریافت کیا کہ بزرگ صاحب! کسی مصلحت کے تحت آپ اس وقت منہ پیچھے کر کے بیٹھ گئے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا " آج ایک عجیب واقعہ ہوا ہے پہلے میرے پاس ایک ملائکہ آیا تھا اس نے کہا کہ ان کا نام ناصر احمد ہے اور یہ دنیا میں اپنے زمانہ کے بہت بڑے آدمی ہوں گے۔دو تین دن کے بعد مفتی محمد صادق صاحب اُن کے پاس آئے اور بزرگ صاحب نے اُن سے بھی ذکر کیا کہ میں نے ایک ایسا واقعہ دیکھا کہ میاں ناصر احمد جو خلیفہ ثانی کے فرزند ہیں۔بہت بڑا آدمی بنے والا ہے۔لیکن اس کے بڑے ہونے کا وقت ابھی نہیں ہے۔بلکہ وہ اپنے وقت پر بہت بڑا آدمی بنے گا اور وہ بہت صاحب اختیارات ہوگا اور پھر انہوں نے خاکسار کو یہ بھی کہا کہ یہ سب باتیں تمہاری زندگی میں ہی ظہور میں آئیں گی۔بزرگ صاحب نے جب مفتی صاحب سے اس کشف کا ذکر کیا تو مفتی صاحب نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ واقعی بہت بڑا آدمی بنے گا اور بزرگ صاحب نے مجھے یہ بھی نصیحت فرمائی کہ یہ سب خداوندی کی باتیں ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا تم اس معاملے میں جلدی نہ کرنا اور لوگوں میں اس بات کا چرچا نہ کرنا۔