جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 203
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 203 چلتا ہے وگر نہ ھنس کر رہ جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھیں پھر آپ کو کیف نصیب ہوگا۔میں نے کہا تو پھر مجھے کتب دیں۔چنانچہ انہوں نے مجھے ایک کتاب منظور الہی دی۔جس میں مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات تھے۔اور جلسہ مذاہب کی رپورٹ جس میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا مضمون تھا۔ساری ساری رات بار بار پڑھتا رہا پھر دفتر میں ایک احمدی نوجوان شیخ لطف الرحمن صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے تحریک کی۔آپ تہجد میں دعاؤں سے کام لیں ، اور اللہ تعالیٰ سے دریافت کریں کہ کون راستی پر ہے۔چنانچہ میں نے دعائیں شروع کیں ، اور دونوں جماعتوں کو سامنے رکھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دستگیری فرمائی۔چنانچہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوئی۔دیکھا کہ ایک بچہ کے سامنے ربل پر قرآن مجید کھلا ہوا ہے۔وہ پڑھتا ہے اور صبح پڑھتا ہے اور بچہ بہت ہی چھوٹا ہے ایک آواز ہے۔جو اس بچہ کو بار بار غلط پڑھاتی ہے۔مگر وہ بچہ صحیح قرآن کریم پڑھتا ہے۔اس پر رسول کریم صل اللہ علیہ والہ نے فرمایا دیکھا کہ کو غلط پڑھایا جاتا ہے مگر بچہ صیح پڑھتا ہے۔پھر دیکھا کہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی ہوا میں معلق ہیں اور تحدی سے فرماتے ہیں۔کہ ہاں یہی فرقہ احمد یہ ناجی ہے، اور جو بھی اس میں آئے گا ناجی ہے۔میں نے اس سے قبل حضور کو نہیں دیکھا تھا بعد میں فوٹو دیکھ کر معلوم ہوا کہ یہی خلیفتہ المسیح الثانی ہیں۔غرض بڑے انکشافات ہوئے اور انتہا یہ کہ بیعت کے بعد ایک روز رات مولا کریم سے ماں اور بچہ کی طرح اس رنگ میں گفتگو رہی کہ اے مولا! بے شک مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ سے میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ کلام پاک میں جس قدر تیری صفات ہیں۔وہ جاری وساری ہیں۔مگر میں تو تجھے بالمشافہ دیکھنا چاہتا ہوں۔اس قدر رقت طاری ہوئی کہ جانماز آنسوؤں سے بھیگ گیا۔