جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 192 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 192

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 192 فضل سے ، تو یہ ظاہر فرما، کہ جماعت کے دونوں فریقوں میں حق پر کون ہے؟ پیغامی جماعت یا جماعت قادیان؟ میں نے خواب دیکھا کہ بندہ ایک غیر آبا دوسیران کھنڈرات سے گذر رہا ہے، اور مشرق کی طرف جا رہا ہے شام کا وقت ہے گویا عصر اور مغرب کے بین بین وقت ہے۔اور جھٹ پٹا سا ہو چکا ہے۔اسی اثناء میں مشرق کی طرف ایک عظیم الشان اور بلند مینارہ نظر آتا ہے، اور مینارہ کے عین اوپر تین چار روز کا چاند روشن ہے۔میں اپنے دل میں حیران ہوتا ہوں ، کہ اول تو عصر اور مغرب کے درمیان ابتدائی دنوں کا چاند روشن اور دکھائی ہی نہیں دیتا۔دوسرے یہ چاند مشرق میں بلند ہورہا ہے۔یہ عجیب چاند ہے میں کافی دیر تک حیرت و استعجاب کے ساتھ اس چاند کو دیکھتا رہا۔اسی اثناء میں دیکھا کہ چاند کے عین درمیان سے ایک ستارہ نمودار ہوا ہے، اور جوں جوں شام کا اندھیرا بڑھ رہا ہے۔اس ستارہ کی روشنی بڑھتی جارہی ہے۔یہاں تک کہ کافی وقت ہو گیا ہے ، اور اس ستارہ کی روشنی سے ایک عالم منور ہورہا ہے۔اسی اثناء میں ایک دیہاتی طرز کا آدمی جانب جنوب سے آتا دکھائی دیا۔جو معمولی سادہ کپڑوں میں ملبوس، چہرہ نورانی اور باریش تھا۔جب سامنے آیا تو کہنے لگا جانتے ہو یہ مینارہ کون سا ہے؟ یہ مینارہ قادیان کا مینارہ مسیح ہے اور یہ چاند حضرت مسیح موعود اور یہ ستارہ محمود ہے جوئین چاند کے درمیان روشن ہے۔اتنے میں میری آنکھ کھل گئی دیکھا تو صبح کے چار بجے تھے اور دل ہشاش بشاش تھا۔میں خدائے واحد قہار کو حاضر و ناظر جان کر بیان کرتا ہوں، کہ میں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ عالم رویا میں خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے اور اس میں میں نے کوئی بات اپنے پاس سے نہیں ملائی۔" ( الفضل 29 اگست 1956ء)