جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 170
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 170 چوٹیں آئی تھیں۔جن کی وجہ سے حضور کو بہت سخت تکلیف تھی اور زندگی کی کوئی امید نظر نہ آتی تھی اور مجھے بار بار خیال آتا تھا کہ اب کیا ہو گا۔رات اور دن سخت گھبراہٹ اور قلق سے گذرتے تھے اور یہی سننے میں آتا تھا کہ یا آج کا دن گزرے گا یا رات بس پھر میرا آقا اور محسن ہم سے جدا ہو جائے گا۔انہی غم واندوہ کے دنوں میں ایک رات خواب میں یہ نظارہ دیکھا کہ ایک جگہ ہے جیسے کوئی باغ ہے اس میں ایک مجلس چوکور شکل میں بیٹھی ہوئی ہے۔جس میں بڑے بڑے بزرگ اور نورانی شکل لوگ بیٹھے ہیں کہ اچانک حضرت مسیح موعود نمودار ہوئے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور سڑک کی طرف سے تشریف لائے ہیں۔لیکن یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ سڑک کی طرف سے تشریف آوری ہوئی بلکہ اچانک نظر آگئے ہیں اور حضور نے میاں صاحب یعنی حضرت خلیفہ اسی ثانی ایدہ الہ تعالی کے چہرے کو اس طرح دکھایا کہ حور نے فرمایا فکر کی کیا بات ہے۔تین دن کو یہ جو ہو گا۔اس خواب کے بعد حضرت خلیفۃ امسیح اول کو صحت ہونی شروع ہوگئی لیکن میں اس خواب کی وجہ سے یہ خیال کرتی رہی کہ حضرت کی وفات اب بہت قریب ہونے والی ہے مگر جوں جوں دن گزرتے گئے۔حضور کی صحت اچھی ہوتی گئی۔حتی کے چنددنوں کے بعد ان کی صحت ہوگئی اور وہ خطرناک حالت بیماری کی جاتی رہی۔آخر قریباً تین سال کے بعد حضرت کی وفات ہوگئی اور حضرت خلیفتہ اسی ثانی ایدہ اللہ تعالی خلیفہ منتخب ہوئے تب معلوم ہوا کہ میری خواب اس طرح پوری ہوئی ہے کہ تین دن سے مراد تین سال تھے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خلافت حقہ کی خبر خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے تین سال قبل ان کا چہرہ دکھا کر بتادی تھی۔فالحمدلله علی ذلک تاریخ تحریر 13 اگست 1939 ء ) بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحہ 343-342)