جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 106
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 106 حقیقت کھلی کہ ارادہ الہی میں یہ میرے ہی فرائض اور کام تھے اور ایک وقت آنے والا تھا کہ مجھے ان کی تکمیل کے لئے کھڑا کیا جانا تھا۔" منصب خلافت صفحه 28 رؤیا وکشوف سید نامحمود صفحه 28) ۱۴۔وصیت مارچ کے بدر میں دیکھیں: 1913 ء کی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔"1913ء میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے شملہ گیا تھا جب میں یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفتہ اسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میں نے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریب 2 بجے ہیں میں اپنے کمرہ میں ( قادیان میں ) بیٹھا ہوں۔مرزا عبد الغفور صاحب ( جو کلانور کے رہنے والے ہیں ) میرے پاس آئے اور نیچے سے آواز دی میں نے اٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفہ اسیح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سودو (102) کے قریب تپ ہو گیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں۔جب میں نے یہ رویا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کرلوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں۔سو میں نے وہاں سے تار دیا کہ حضور کا کیا حال ہے۔جس کے جواب میں حضرت نے لکھا کہ اچھے ہیں۔یہ رویا میں نے اسی وقت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنا دی تھی اور غالباً نواب صاحب کے صاحبزادگان میاں عبد الرحمن خان صاحب ، میاں عبداللہ خان صاحب، میاں عبدالرحیم خان صاحب میں سے بھی کسی نے وہ رؤیاسنی ہوگی کیونکہ وہاں ایک مجلس میں میں نے اس رویا کو بیان کر دیا تھا۔اب دیکھنا چاہئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت حضرت صاحب کی وفات کی