جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 669 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 669

خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے -i ۱۸۳۔مسز آمنہ طیبہ صاحبہ زوجہ منور احمد اعوان صاحب احمد یہ لائبریری چکوال 669 عاجزہ حلفاً بیان کرتی ہے کہ جب پیارے آقا حضرت خلیفہ امسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) کا المسیح وصال ہوا تو پوری جماعت کی طرح میری بھی عجیب حالت تھی کسی کو بتانے کی بھی ہمت نہ تھی۔رات اسی طرح دعاؤں میں گزری۔دوسرے دن دس بجے میں نے اپنے میاں سے کہا۔" میرا دل کرتا ہے اور دعا مانگتا ہے کہ ناظر اعلیٰ میاں مسرور احمد صاحب خلیفہ بنیں " میرے شوہر نے کہا تمہاری خواہش اپنی جگہ جو دعا کرنی ہے دل میں کرو۔اور اللہ تعالیٰ سے خیر مانگو۔میں غم میں رو رو کر دعا کرتی رہی اپنے اللہ تعالیٰ سے باتیں کرتی رہی۔عصر کے وقت بیت الذکر گئی۔تو صدر صاحبہ لجنہ سے اپنی خواہش یا دلی جذبات کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکی۔اس پر انہوں نے سختی سے ڈانٹا کہ اس طرح اس بات کو آگے بڑھانے سے پرو پیگنڈا ہو جاتا ہے۔بس دعا کرتی جاؤ۔لیکن میرے اندرونی جذبات کچھ اس رنگ میں تھے کہ اٹھتے بیٹھتے ، کچن میں کام کرتے ، بچوں کو پڑھاتے بس ایک ہی نام کے لئے دعا نکل رہی تھی کہ میاں مسرور احمد خلیفہ بنیں پھر میں نے مربی صاحب کو فون کر کے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ۔ایسے موقعہ پر اللہ تعالی دلوں کی تسلی کے لئے اشارے فرماتا ہے۔آپ تسلی رکھیں۔دعا کریں کہ جو جماعت کے لئے بہتر ہے وہی ہو۔آمین۔رات انتخاب کے وقت میرے میاں منور احمد اعوان صدر جماعت چکوال شہر بیت الذکر میں رہے میں اپنے بچوں کی وجہ سے نہ جاسکی۔رات تقریباً پونے تین بجے گھر واپس آئے میں نے دروازہ کھولا تو میرا ہاتھ پکڑ کر چوم کر کہا کہ تمہاری خواہش پوری ہوگئی ہے۔مبارک ہو۔میں نے ایک دم الحمد للہ کہا اور سجدے میں گرگئی۔پھر میں تھی اور خدا تھا۔کافی دیر بعد