جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 622
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے دیکھا کہ ۱۳۱ مکر مہ امته الجمیل غزالہ صاحبہ اہلیہ مبارک احمد تنویر صاحب بیت السبوح فرینکفرٹ جرمنی 622 حضرت ماریہ صیح الرابع رحمہ اللہ کی وفات سے تین چار روز قبل عاجز نے خواب میں آسمان پر گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں اور میں ایک میدان میں کھڑی ہوں کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہو جاتی ہے یہ بارش موسلا دھار ہے لیکن حیرت یہ ہوتی ہے کہ اس موسلا دھار بارش کے قطرے بجائے زمین پر گرنے کے پوری فضا میں اکٹھے ہو کر ایک تکونی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ان تکون کا مرکز میرا دل ہے وہاں پر بارش کے قطرے گر رہے ہیں اور اس تکون کے سرے پر بارش کے موٹے موٹے قطروں کی صورت میں جگمگا تا ہوا لفظ لکھا ہوا ہے۔"مسرور " اور میں بہت حیرت سے اس کو دیکھ رہی ہوں اور دل میں سوچ رہی ہوں کہ یہ تو بادل عد سے کی طرح ہے جس پر سورج کی شعاعیں اکٹھی ہو کر اس کے نیچے اگر کاغذ رکھا ہو تو جلا دیتی ہیں یعنی تمام طاقت کا منبع یہ لفظ بن رہا ہے یہ سوچ بھی خواب کے اندر ہی آتی ہے۔بیدار ہونے پر اس خواب کی سمجھ تو نہ لگی یہ سوچا کہ کبھی کوئی خوشی ملنے والی ہوگی۔لیکن جونہی خلافت خامسہ کے انتخاب کے لئے کمیٹی بیٹھی تو مجھے اپنی یہ خواب یاد آ گئی۔اور پھر انتخاب کے اعلان کے بعد تو یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ ہمارا خدا آج بھی زندہ خدا ہے اور یہ کہ خلیفہ خدا بنا تا ہے اور خود بخود دل اس کی طرف مائل بھی کرتا ہے اور پہلے سے ایسی ہوائیں چلا دیتا ہے کہ صدق دل سے انسان اپنا سب کچھ اس نئے خلیفہ کے ہاتھ بیچ دیتا ہے۔تاریخ تحریر 03 فروری 2006ء)