جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 539
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے رہے ہیں یہ میرا تاثر تھا صبح کو۔539 تاریخ تحریر 30 دسمبر 2005ء) ۴۹ مکرم عبداللطیف پریمی صاحب راولپنڈی خاکسار نے 3 / جولائی 2000ء کور بوہ میں بعد نماز ظہر ایک خواب دیکھا جو میں نے اپنی ڈائری میں لکھ دیا۔خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ہمارے گھر تشریف لائے ہیں۔وہ میرے چھوٹے بیٹے خرم لطیف جس کی اس وقت عمر 19 سال تھی سے بہت گرمجوشی سے ملے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے آپ کی میری بیٹے سے بہت واقفیت ہے۔پھر حضرت میاں صاحب ہمارے گھر میں بلا تکلف ادھر ادھر پھرنے لگے۔پھر جانے لگے تو خاکسار نے اس وقت قمیص اتاری ہوئی تھی۔وہ فوراً پہن لی۔اور حضرت صاحبزادہ صاحب سے ملا۔آپ نے میرے ساتھ معانقہ کیا اور میرے چہرے کے دو بو سے لئے۔خاکسار نے بھی آپ کا ایک بوسالیا۔پھر آپ نے خاکسار کے ساتھ کچھ باتیں کیں۔جو کہ بھول گئی ہیں۔خواب میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی میرے ساتھ بھی کافی واقفیت ہے۔پھر آنکھ کھل گئی۔جب خلافتِ خامسہ کا انتخاب ہور ہا تھا تو خاکسار نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کہ میری 3 جولائی 2000ء کی خواب سے تو یہی معلوم ہوتا ہے صاحبزادہ مسرور احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوں گے۔( تاریخ تحریر 24 رمئی 2003ء)