جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 537
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 537 تھا کہ خاکسار کولندن جانا چاہیے کہ اس دوران محترم محمد اسلم شاد منگل صاحب (پرائیوٹ سیکرٹری ) کا فون آیا اور انہوں نے دریافت کیا کہ خاکسار کا انگلستان کا ویزا ہے کہ نہیں؟ خاکسار نے مثبت میں جواب دیا انہوں نے بتایا کہ خاکسار انتخاب خلافت کمیٹی کا رکن ہے اس لئے لندن روانہ ہو جائے کیونکہ خاکسار دومرتبہ امیر ضلع مظفر گڑھ رہ چکا ہے اور اب امیر ضلع اٹک ہے خاکسار پاسپورٹ لے کر منگلا صاحب کے پاس حاضر ہو گیا انہوں نے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ کے پاس بھجوایا۔آپ کے گھر کے باہر بہت ہجوم تھا اندر اطلاع بھجوانے پر محترم سید قاسم احمد شاہ صاحب باہر تشریف لائے اور اندر لے گئے۔آپ سے ملاقات ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ " تبشیر والوں کو ملیں وہ آپ کے انگلستان جانے کا انتظام کر دیں گے" چنانچہ خاکسار اس قافلے کے ساتھ لندن پہنچا جس میں حضرت مرزا عبدالحق صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے کئی افراد بھی شامل تھے۔22 را پریل 2003ء کو بعد نماز مغرب و عشاء جب بیت الفضل لندن میں خاکسار باقی ارکان انتخاب کمیٹی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور دعاؤں میں مصروف تھا تو اس وقت فوراً ذہن میں اس خواب کا خیال آیا کہ کئی سال پہلے دیکھا تھا خاکسار بیت اقصیٰ میں انتخاب خلافت کمیٹی میں شامل ہے اس کی تعبیر یہی معلوم ہوتی ہے کہ ایک دور کی بیت (اقصیٰ کے معنے دور ہوتے ہیں ) جس سے مراد بیت الفضل لندن ہے انتخاب خلافت ہوگا اور اس میں خاکسار شامل ہے۔الحمد للہ۔اب دیکھ لیں بیت الفضل لندن پاکستان سے بہت دور ہے اور معنوی لحاظ سے بیت اقصیٰ ہی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ انتخاب خلافتِ خامسہ سے قبل رات جو خاکسار نے لندن میں اپنے نسبتی بھائی سردار نصیر احمد صاحب کے گھر میں سخت کرب کی حالت میں گزاری۔ساری رات نیند نہیں آتی تھی بہت دعائیں کرنے کا موقع ملا۔جب بھی بستر پر کروٹ بدلتا آنکھوں کے سامنے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا چہرہ آجاتا اور ایسے تقریباً ایک درجن بار ہوا ہوگا۔