جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 521
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ۳۲ مکرمہ طیبہ وحید صاحبہ زوجہ مکرم ڈاکٹر خواجہ وحید احمد صاحب شکور پارک ربوه 521 میں حلفا تحریر کرتی ہوں کہ میں نے اکتوبر 2000 ء خواب میں دیکھا کہ میں لجنہ ہاں جاتی ہوں اور دفتر مرکز یہ پاکستان والے اُس کمرے میں جسے کھانے کے کمرے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے کھڑی ہوں اور ایک بہت ہی طویل کھانے کی میزگی ہے اور احساس یہ ہے گویا اُس دن میری طرف سے کھانے کی دعوت ہے اور میز پر محترمہ صاحبزادی امتہ الصبوح صاحبہ (جو اس وقت صدر لجنہ ربوہ ہیں ) چند خواتین کے ہمراہ کھانا کھا رہی ہیں اور کھانے میں مسور کی دال اور روٹی ہے۔جب وہ کھانا کھا چکتی ہیں تو مجھے کہتی ہیں کہ طیبہ میاں صاحب (صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ) تو یہ دال نہیں کھاتے جس پر میں پریشان ہو جاتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ اب تو وہ کھانا کھانے آنے والے ہیں۔میں کیا کروں اور سوچتی ہوں کہ ایسا کیا فریزر میں پڑا ہے جو کہ جلدی سے تیار ہو جائے۔میں اسی خیال کے تحت چکن کو کڑاہی میں تمام تر مصالحہ جات کے ساتھ ڈال کر چولھے پر رکھ دیتی ہوں اور سوچنے لگتی ہوں کہ کاش حضرت میاں صاحب کسی وجہ سے لیٹ ہو جائیں اور ان کے تشریف لانے سے پہلے کھانا تیار ہو جائے۔لیکن ابھی کھانا تیار نہیں ہوا ہوتا کہ حضرت میاں صاحب تشریف لے آتے ہیں۔حضور اُسی کرسی پر جس سے باجی صبوحی اٹھی تھیں تشریف فرما ہو جاتے ہیں اور میری طرف دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ لاؤ کھانا لا ؤ اور میں گھبرا کر باجی صبوحی جو کہ حضور کے پیچھے جا کھڑی ہوتی ہیں کی طرف دیکھتی ہوں کہ اب کیا کروں؟ جس پر حضور میری پریشانی کو سمجھ جاتے ہیں اور اٹھ کھڑے ہوتے ہیں مجھے کہتے ہیں کہ میں " قصر خلافت جا رہا ہوں تم میرا کھانا وہیں بھجوا دو " اور جیسے دھیمی مسکراہٹ سے آتے ہیں اُسی مسکراہٹ سے چلے جاتے ہیں۔