جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 47 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 47

خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے ا۔سئلہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی تصریحات اور رؤیا والہام 47 حضرت خلیفہ اول کا جذبہ اطاعت آپ کی اپنی زبانی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شہادت " میں یہاں قادیان میں صرف ایک دن کے لئے آیا اور ایک بڑی عمارت بنتی چھوڑ آیا۔حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا اب تو آپ فارغ ہیں میں نے عرض کیا۔ارشاد! فرمایا: آپ رہیں ! میں سمجھا دو چار روز کے لئے فرماتے ہیں۔ایک ہفتہ خاموش رہا۔فرمایا: آپ تنہا ہیں۔ایک بیوی منگوالیں۔تب میں سمجھا کہ زیادہ دن رہنا پڑے گا تعمیر کا کام بند کرادیا۔چندروز بعد فر ما یا کتابوں کا آپ کو شوق ہے۔یہیں منگوا لیجئے تعمیل کی گئی۔فرمایا! اچھا دوسری بیوی بھی یہیں منگوالیں۔پھر مولوی عبد الکریم صاحب سے ایک دن ذکر کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔لَا تَصُبُّونَ إِلَى الْوَطَن فِيْهِ تُهَانُ وَتُمْتَحَنَ یہ الہام نور الدین کے متعلق معلوم ہوتا ہے۔مجھ سے فرمایا: وطن کا خیال چھوڑ دو۔چنانچہ میں نے چھوڑ دیا اور کبھی خواب میں بھی وطن نہیں دیکھا۔" (ضمیمه اخبار بدر قادیان 29 جولائی 1909 ء از حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 33) اس وحی کا ذکر حضرت خلیفہ امسیح الاؤل نے اپنی سوانح حیات جوا کبرشاہ صاحب (نوٹ) نجیب آبادی کو لکھوائی میں یوں فرمایا۔مولوی عبدالکریم صاحب سے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ کو نور الدین کے متعلق الہام ہوا ہے اور وہ شعر حریری میں موجود ہے۔لاتصبون الى الوطن۔فيه تهان وتمتحن۔(مرقاة اليقين في حياة نورالدین) کہ تو وطن کی طرف ہرگز رخ نہ کرنا اس میں تیری اہانت ہوگی اور تجھے تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی۔"