جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 400 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 400

خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ۷۵ مکرم ڈاکٹر رشید احمد آفتاب صاحب صدر جماعت احمد یہ بھلوال 400 مورخہ 18 / اپریل 1982 ء سے دو ایک روز بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے متعلق خاکسار نے ایک رؤیا دیکھی جس کے متعلق خاکسار حلفیہ طور پر بیان کرتا ہے۔یہ رویا دیکھنے کے دوسرے روز ہی نماز مغرب کے وقت خاکسار نے بیت الذکر میں موجود چند دوست اور خاص طور سے مربی سلسلہ مکرم منیر احمد عابد صاحب کے سامنے بیان کر دی تھی جس کے وہ گواہ ہیں۔میں نے دیکھا۔ربوہ کی ایک کشادہ گلی ہے جس میں اور بھی راستے ملتے ہیں ایک ہجوم ہے جو زیادہ تر بزرگوں یعنی انصار پر مشتمل ہے یوں محسوس ہوتا ہے جسے کوئی اہم بات ہو اس ہجوم میں مرکزی حیثیت حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ المسیح الرابع کی ہے اور فوٹو گرافر بار بار فلیش سے فوٹو لے رہے ہیں۔ایک روشنی جو بہت زیادہ تیز ہے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے چہرے پر اچانک پڑی جس سے ان کی آنکھیں چندھیا گئیں اور انہوں نے اپنا باز و تیز روشنی سے بچنے کے لئے اپنے سامنے کر لیا اور میں کہ رہا ہوں کہ اس قدر تیز روشنی نہ ڈالیں اسی اثناء میں احساس ہوا کہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) بھی اس ہجوم میں موجود ہیں اور یہ تیز روشنی ان کے چہرے یا شاید جسم سے نکل کر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے چہرہ پر پڑ رہی ہے۔اس وقت خلیفہ وقت کا اس ہجوم میں شامل ہونا اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ( جو اس وقت خلافت کے ایک خادم تھے ) کی حیثیت خلیفتہ المسیح الرابع کی ہونا کچھ عجیب احساس پیدا کر رہی تھی۔اس کے بعد خاکسار کی آنکھ کھل گئی ( تاریخ تحریر 29رجون 1982ء)