جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 303 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 303

خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خوابیں اور الہی اشارے 303 تاج حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو پہنانے والا تھا۔چنانچہ ڈاکٹر شیخ عبداللطیف صاحب دہلی سے حضرت خلیفہ امسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ ) کی خدمت میں تحریر فرماتے ہیں۔" مجھے ماہ جنوری 1944 ء کے آخری پندرہ دن میں دوخوا ہیں آئیں جو درج ذیل ہیں۔(۱) میں دیکھتا ہوں کہ حضور کی زندگی کے کم و بیش ہونے کا سوال بارگاہ الہی میں پیش ہے۔پھر دیکھتا ہوں کہ کسی کو بہت بڑا رتبہ ملنے والا ہے۔اس کے بعد میری آنکھوں کے سامنے ناصر احمد صاحب کا نام اور شکل بہت دیر تک گھومتی رہتی ہے۔( ناصر احمد صاحب مراد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد ہیں ) پھر میری آنکھ کھل گئی۔" (الفضل 18 مارچ 1944ء) یہ مہیب قدرت الہی ہے کہ آج سے اکیس سال قبل ایک شخص کو نظارہ دکھایا جاتا ہے کہ جب حضرت خلیفہ اسیع الثانی ( نور اللہ مرقدہ ) کو خدا تعالیٰ اپنے پاس بلا لے گا تو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ جماعت کے امام اور آپ کے جانشین ہوں گے۔اور خلافت کا عظیم انعام انہیں عطا ہو گا اور پھر اسے جماعت کے اخبار میں بھی شائع کروا دیا تا وہ محفوظ رہے اور آئندہ آنے والوں کے لئے ایمان واخلاص کی زیادتی کا موجب ہو۔ں ایک درواقع یہی ہدیہ ناظرین کرتا ہوں جس سے ہمارے امام حضرت خلیفہ میں الاٹ کی شان اور اُن کا وہ مقام ظاہر ہوتا ہے جو حضرت مصلح موعود کی نظر میں تھا۔وھوھذا۔