جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 302
خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خوابیں اور الہی اشارے 302 دعائیں ضائع نہیں ہو ئیں بلکہ احسن طور پر قبول ہو کر ایک احسن تخلیق کا موجب بنی ہیں۔خدائے رحیم و کریم ان دعاؤں کو جمع کرتا جا رہا تھا۔وہ ہمارے صدقات کو محفوظ کر رہا تھا۔اور وہ جماعت احمدیہ کوگر یہ اور تضرع اور ابتہال کا موقع دے رہا تھا۔اُسے اپنے در کا فقیر بنائے چلا جارہا تھا۔اور ساتھ ہی ساتھ اپنی رحمانیت کے صدقے مخفی طور پر ایک اور روحانی وجود کی تخلیق کر رہا تھا تا ایک دن وہ جماعت احمدیہ پر وہ وقت لے آئے جب وہ یقین کی آنکھ سے دیکھ لے کہ اُس کا رحیم و کریم خدا اجر دینے میں کتنا صادق اور وفا دار ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کو وفات دے دی تو اُس کے ساتھ ہی وہ اپنی مخفی تخلیق کو سامنے لے آیا۔اور جماعت کو بتا دیا کہ وہ آج اُن کی سب دعاؤں کا بدلہ خلافت ثالثہ کے رنگ میں دے رہا ہے۔خدا تعالی کی طرف سے قیام خلافت ثالثہ کی شکل میں جو احسان جماعت پر ہوا ہے اُس کا وہ جتنا شکر بھی کرے کم ہے۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی عمر دراز کرے۔آپ کے قدم کو ہمیشہ راستی پر قائم رکھے اور روحانی بلندیاں عطا کرے تاکہ جماعت احمدیہ کی خوش بختی میں اور ترقی ہو۔احباب جماعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نافلۃ لک والی پیشگوئی کے پورا ہونے اور حق بحق دار، رسید کے اظہار سے آشنا ہو چکے ہیں۔لیکن علاوہ اس مستقل پیشگوئی کے جماعت کے بعض افراد کو بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفتہ المسح الثالث کے متعلق مبشرات سے نوازا ہے۔جو وقتاً فوقتاً احباب کے سامنے آئیں۔اور انشاء اللہ آئندہ بھی آتی رہیں گی۔اسی قسم کی ایک رؤیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ خلافت کا