جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 24
خلافت حقه اسلامیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 24 تیس برس کا ہی فکر تھا اور پھر اس کو ہمیشہ کے لئے ضلالت میں چھوڑ دیا اور وہ نور جو قدیم سے انبیاء سابقین کی امت میں خلافت کے آئینہ میں وہ دکھلاتا رہا اس امت کے لئے دکھلانا اس کو منظور نہ ہوا۔کیا عقل سلیم خدائے رحیم و کریم کی نسبت ان باتوں کو تجویز کرے گی ہر گز نہیں۔اور پھر یہ آیت خلافت ائمہ پر گواہ ناطق ہے۔وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ۔(الانبياء: 106) کیونکہ یہ آیت صاف صاف پکار رہی ہے کہ اسلامی خلافت دائمی ہے اس لئے کہ يَرِثُهَا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے۔وجہ یہ کہ اگر آخری نوبت فاسقوں کی ہو تو زمین کے وارث وہی قرار پائیں گے نہ کہ صالح اور سب کا وارث وہی ہوتا ہے جوسب کے بعد ہو۔پھر اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک مثال کے طور پر سمجھا دیا تھا کہ میں اسی طور پر اس امت میں خلیفے پیدا کرتا رہوں گا جیسے موسیٰ کے بعد خلیفے پیدا کئے تو دیکھنا چاہئے تھا کہ موسیٰ کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا۔کیا اس نے صرف تمہیں برس تک خلیفے بھیجے یا چودہ سو برس تک اس سلسلہ کو لمبا کیا۔پھر جس حالت میں خدا تعالیٰ کا فضل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہیں زیادہ تھا۔چنانچہ اس نے خود فر مایا وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء :114) اور ایسا ہی اس امت کی نسبت فرمایا۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران: 111) تو پھر کیونکر ہوسکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ