جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 221 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 221

خلافت ثالثه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 221 حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب مرحوم و مغفور سابق نا ظر اصلاح وارشاد نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے خلیفہ اسیح منتخب ہونے پر "بشارات ربانیہ " کے نام سے سینکڑوں افراد کے ایسے کشوف ورڈ یا پر مشتمل ایک کتا بچہ شائع فرمایا تھا جو افراد جماعت نے خلافت ثالثہ کے قیام اور حضرت صاحبزادہ مرزا نا صراحمد صاحب کے بطور خلیفہ اسیح الثالث منتخب ہونے کی تائید میں دیکھی تھیں۔کتاب کے آغاز پر رؤیا اور خواہیں درج کرنے سے قبل محترم مولانانے " خلیفہ ثالث اور ربانی بشارات " کے تحت تحریر فرمایا: خلیفہ ثالث اور ربانی بشارات 8-7 نومبر 1965ء کی درمیانی رات خدا کا وہ محبوب بند محمود وہ عبد مکرم اور وہ مصلح موعود جس کا نزول جلال الہی کے ظہور کا موجب تھا۔اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اپنے محبوب ازلی خدا کے حضور اٹھایا گیا۔وَكَانَ اَمْرًا مَقْضِيًّا۔آپ کی وفات بھی ٹھیک اس رویا کے مطابق تھی جو حضور نے 23 اپریل 1944 کو دیکھی تھی۔جس میں صر احصا نیا کر تھا کہ آپ اب اس دار فانی میں دعویٰ مصلح موعود کے بعد اکیس سال تک اور قیام پذیر رہیں گے۔(الفضل 29 اپریل 1944ء) آپ کی وفات الہامی ارشاد موت حسن موت حسن فی وقت حسن" کے مطابق کامیاب زندگی اور با مرادانجام کی موت تھی۔حضور نے فرمایا: