جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 20 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 20

خلافت حقه اسلامیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 20 توریت کی تائید اور تصدیق کریں۔اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے کہ ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرًا یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنی رسول پے در پے بھیجے۔پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کے لئے ضرور انبیاء کو بھیجا کرتا ہے۔چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا۔جن کے آنے پر اب تک بائیبل شہادت دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔یونہی اس پر چھری پھیر دی جائے۔پس یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دائگی خلیفوں کا وعدہ دیا تاوہ ظلی طور پر انوار نبوت پا کر دنیا کوملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی پاک برکات لوگوں کو دکھلاویں۔یہ بھی یادر ہے کہ ہر ایک زمانہ کے لئے اتمام حجت بھی مختلف رنگوں سے ہوا کرتا ہے اور مسجد دوقت ان قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جب موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کمالات پر موقوف ہوتا ہے سو ہمیشہ خدا تعالیٰ اسی طرح کرتا رہے گا جب تک کہ اس کو منظور ہے کہ آثار رشد اور اصلاح دنیا میں باقی رہیں اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ نظائر متواترہ اس کے شاہد ہیں اور مختلف بلاد کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو چھوڑ کر اگر صرف بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسی سے حضرت میرے تک ہزار ہا نبی اور محدث اُن میں پیدا ہوئے جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہو کر تو ریت کی خدمت میں مصروف رہے۔چنانچہ ان تمام بیانات پر قرآن شاہد ہے اور بائیبل شہادت دے رہی ہے اور وہ نبی کوئی نئی کتاب نہیں لاتے تھے کوئی نیا دین نہیں سکھاتے تھے صرف توریت کے خادم تھے اور جب بنی اسرائیل میں دہریت اور بے ایمانی اور بد چلنی اور سنگدلی پھیل جاتی تھی تو ایسے وقتوں میں وہ ظہور کرتے تھے۔اب کوئی سوچنے والا سوچے کہ جس حالت میں موسی کی ایک محدود شریعت کے لئے جو زمین کی تمام قوموں کے لئے نہیں تھی اور نہ قیامت تک اُس کا دامن پھیلا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے یہ احتیاطیں کیں کہ ہزار ہا نبی اس شریعت کی