جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 18
خلافت حقه اسلامیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 18 اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہو گا یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہو گا۔پھر ان کے آنے کے بعد جو اُن سے سرکش رہے گا وہی لوگ بدکار اور فاسق ہیں۔یہ اس بات کا جواب ہے کہ بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا ہم پر اولیاء کا ماننا فرض ہے۔سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک فرض ہے اور اُن سے مخالفت کرنے والے فاسق ہیں اگر مخالفت پر ہی مریں۔اس جگہ معترض صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائده :4) اور پھر اعتراض کیا ہے کہ جبکہ دین کمال کو پہنچ چکا ہے اور نعمت پوری ہو چکی تو پھر نہ کسی مجدد کی ضرورت ہے نہ کسی نبی کی مگر افسوس کہ معترض نے ایسا خیال کر کے خود قرآن کریم پر اعتراض کیا ہے کیونکہ قرآن کریم نے اس اُمت میں خلیفوں کے پیدا ہونے کا وعدہ کیا ہے۔جیسا کہ ابھی گذر چکا ہے اور فرمایا ہے کہ اُن کے وقتوں میں دین استحکام پکڑے گا اور تزلزل اور تذبذب دور ہوگا۔اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا۔پھر اگر تکمیل دین کے بعد کوئی بھی کارروائی درست نہیں تو بقول معترض کے جو تمہیں سال کی خلافت ہے وہ بھی باطل ٹھہرتی ہے کیونکہ جب دین کامل ہو چکا تو پھر کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔لیکن افسوس کہ معترض بے خبر نے ناحق آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ کو پیش کر دیا۔ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دُنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گذرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور رُوحانی خلیفے آتے ہیں نہ معلوم کہ بیچارہ معترض نے کہاں سے اور کس سے سن لیا