جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 160
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 160 میں پٹواری رہا ہے۔1914ء میں جبکہ حضرت خلیفہ مسیح الاول (اللہ آپ سے راضی ہو ) بستر علالت پر لیٹے۔اور چوہدری نواب خان صاحب پنشن تحصیلدار دسوہہ میں سب رجسٹرار تھے۔ہم دونوں برائے زیارت حضرت خلیفہ اسیح الاول ( اللہ آپ سے راضی ہو ) قادیان آئے۔حسب توفیق انہوں نے اور میں نے نذر گزاری پھر ہم دونوں واپس آگئے۔اس کے بعد حضرت خلیفة اصبح الاول (اللہ آپ سے راضی ہو ) کا انتقال ہو گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اور حضور خداوند تعالیٰ کی طرف سے خلافت پر مامور ہوئے۔ان دنوں تحصیل دسوہہ میں ہماری جماعت کے سیکرٹری چوہدری نبی بخش صاحب مرحوم اجمیری تھے جو مولوی محمد علی صاحب اجمیری کے باپ تھے اور مخلص احمدی تھے۔ہم لوگ نماز جمعہ چوہدری نواب خاں صاحب کے مکان واقعہ دسوہہ میں پڑھا کرتے تھے۔چھوٹی سی جماعت چند آدمیوں پر مشتمل تھی۔چوہدری نبی بخش صاحب مرحوم نے جمعہ کے دن فرمایا: کہ ہم نے بیعت حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی کر لی ہے۔کیا تم اور چوہدری صاحب نے (یعنی میں نے اور چوہدری نواب خان صاحب مرحوم نے ) بیعت کر لی ہے۔لیکن ہم دونوں نے ابھی بیعت نہیں کی تھی۔چوہدری نواب خاں صاحب مرحوم نے جواب دیا کہ ابھی نہیں۔چوہدری نبی بخش صاحب مرحوم نے کہا کہ اگر آئندہ جمعہ تک تم لوگ بیعت نہیں کرو گے تو ہم تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھیں گے۔اس کے بعد وہ اپنے گاؤں چلے گئے۔میں نوجوان تھا۔اور چوہدری نواب خاں صاحب بوڑھے آدمی اور عالم تھے۔انہوں نے بعد میں مجھ سے کہا کہ یہ یونہی فتنہ سا کھڑا ہو گیا ہے جو جلد فیصلہ ہو جائے گا بیعت میں کیا جلدی ہے۔مگر میرا دل مطمئن نہ ہوا۔میں ہر روز نماز میں دعائیں مانگتا رہا، اور خاص کر جب جمعرات کا دن آ گیا تو اسی رات عشاء کی نماز میں خادم نے بہت ہی گڑ گڑا کر عاجزی سے خداوند کریم کے حضور دعا کی۔اسی رات نماز تہجد سے پہلے وقت مجھے ایک خواب آیا جو من و عن درج ذیل ہے۔میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ( اللہ آپ سے راضی ہو )