جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 145 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 145

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 145 کرو کہ میرے پاس پہنچ گئے ہو۔میں تم کو ایک عجیب نظارہ دکھلاتا ہوں۔وہ دیکھوطوفان میں دو چیزیں کیا ہیں میں نے دیکھا تو دو بطخیں طوفان کے اوپر نمودار ہوئی ہیں۔بڑی بطخ جب کنارہ کی طرف پہنچی ہے تو معلوم ہوا ہے کہ وہ بطخ نہیں بلکہ حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام حضرت مرزا صاحب مغفور ہیں۔اور دوسری بیخ جو آپ کے پیچھے آرہی ہے وہ آپ کے صاحبزادہ میاں صاحب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہیں جو اس وقت بالکل چھوٹے بچے تھے ( مگر رویا میں ایسا دکھلایا گیا کہ بڑی بطخ کے برابر یہ دوسری بلخ بھی جو پہلی کے پیچھے چل رہی ہے چستی اور زور میں یکساں ہے۔) ان دونوں بطخوں کے تیر نے اور زور سے چلنے اور پھڑ پھڑانے کی برکت سے طوفان کم ہوتا گیا ہے اور کناروں سے نیچے پہنچ کر امن کی صورت نمودار ہونے لگ گئی ہے۔سمندر کے کنارے ایک کشتی بشکل جہاز نمودار ہوئی ہے جس کی تین منزلیں ہیں۔ان میں لوگ سوار بھی ہیں اور کنارے پر ہزار ہا مخلوقات پکارتی ہے کہ خدا کے واسطے ہم کو بھی سوار کرو۔چنانچہ ان سوار ہونے والے لوگوں میں کئی لوگ میرے دوست بھی ہیں جن کو میں شناخت کرسکتا ہوں۔وہ دونوں بطخیں بڑے بادشاہوں کی شکل میں نمودار ہو کر کنارے پر آگئی ہیں اور سمندر خشک ہوتا ہو تا زمین ظاہر ہوگئی ہے۔اس زمین پر حضرت خلیفتہ المسیح کے مکانات ظاہر ہوئے ہیں۔ان کا نام سنتے ہی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی وفات کے بعد مولوی صاحب خلیفہ ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ رویا دونوں حضرتوں کی خدمت میں بیان کی گئی، اور دونوں نے اس کی کمال تصدیق فرمائی۔اب دوسرے خلیفہ کا عہد آ گیا ہے اس وقت رؤیا سے مقابلہ کر کے دیکھنا ہے کہ جن دو بطخوں کے زور اور برکت سے طوفان کفر و شرک کا زور ٹوٹ گیا تھا۔اس کا دوسرا نمبر پہلی بطخ کی پیروی پر تھا جس سے صاف ثابت ہوا کہ حضرت مہدی مسعود کے فرزند رشید کی برکت ہمارے واسطے ابتداء ہی سے شامل تھی چنانچہ رویا سن کر حضرت اقدس نے تعبیر میں فرمایا کہ وہ میرا موعود