جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 132
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے مکرم صوفی محمد علی صاحب ملہم لاہور کے کشوف ورؤیا 132 صوفی محمد علی صاحب لاہور کی جماعت کے ایک مخلص اور خاص ممبر ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سابقین اولین خدام میں سے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصدیق و تائید میں بھی ان کے کشوف والہامات شائع ہوتے تھے۔آپ نے حضور کی خدمت میں مورخہ 24 / مارچ 1914ء کو درج ذیل مکتوب لکھا: " التماس ہے کہ یہ خاکسار حضرت اقدس مسیح زمان کے پہلے خادمین سے ہے اور آپ کی عنایات اور فیضان سے مستفید و مستفیض ہوں اور ان کے قدوم کی برکت سے خدا تعالیٰ سے اکثر اوقات بطور انعام الہام ہوتے رہے اور اب بھی وہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔حضور کی ولادت پر بہت سے مبشر الہامات اور مکاشفات اور رویا صادقہ اس عاجز کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئے جو حضور کی علومشان کی بابت تھے اور انہیں ایام میں بخدمت حضرت اقدس لکھ کر روانہ کئے تھے مگر اب یاد نہیں رہے۔ان زلازل کی بھی پیش از وقت اللہ تعالیٰ سے خبر ملی جو خلیفہ المسیح کی خدمت میں ارسال کر دی گئی۔حقیقت میں ان سب کی بنیاد وطن کا ایک مضمون ہے جس میں اس نے خواجہ کمال الدین کو کہا کہ اگر احمدیت کو چھوڑ کر اشاعت کرو تو ہم بھی آپ کی مدد کرنے کو آمادہ ہیں خواجہ صاحب نے تو یہ بات قبول کر لی مگر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم احمدیت کو چھوڑ کر لکھو تو بتاؤ لکھو گے کیا ؟ تب خواجہ صاحب خاموش ہو گئے وہی سلسلہ حضرت کی وفات کے بعد بھی پیش کیا گیا اور ایک عظیم الشان شور پڑ گیا۔ان ایام میں مولوی صدرالدین صاحب لاہور میں قرآن شریف کا درس کیا کرتے تھے۔ایک رات کو جب درس ختم