جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 119
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 119 وہ امر حجت ہوتا ہے تو صرف اس کی اپنی ذات پر نہ کہ دوسروں پر اور اس کو یوں کھلم کھلا اچھالتے پھر نا اور سناتے رہنا خطرہ سے خالی نہیں ہوتا۔اپنے آقا کی خدمت میں عرض کرنا میں اپنے لئے ضروری سمجھتا تھا کہ میں اس نعمت کو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ثمر یقین کرتا ہوں۔نیز ان کو تحدیث نعمت و شکر گزاری سے نعمت میں اضافہ وزیادتی ہے میں اس قانون الہی سے بھی فائدہ اُٹھانا چاہتا تھاور نہ میں نے سوائے شاذ ، ان کا اظہار بھی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔16 مارچ1939ء کو خلافت جوبلی کی تقریب کو مناتے ہوئے علاوہ اور بزرگوں کے مکر می مولا نا مولوی غلام رسول را جیکی نے بھی ایک تقریر برکات خلافت سے متعلق کی۔جس میں انہوں نے اپنے اس الہام کا ذکر فرماتے ہوئے میرے القاء کا بھی ذکر فرمایا تھا۔میں نے اس کی وضاحت اور تشریح ضروری سمجھ کر یہ نوٹ لکھا ہے ورنہ عقیدہ میرا ایسے امور کے متعلق وہی ہے جو او پر عرض کیا۔(سیرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے صفحہ 87-486) روایت حضرت علامہ مولا نا مولوی غلام رسول صاحب فاضل را جیکی "حضرت خلیفہ اول کے آخری ایام میں جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان خانہ میں آنجناب سے علاج کرایا کرتا تھا۔ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میری عیادت یعنی بیمار پرسی کے طور پر تشریف لائے ہیں اور میرے پاس آبیٹھے ہیں اور فرماتے ہیں۔اب کیا حال ہے۔صبح کے وقت سیدنامحمود ایدہ اللہ تشریف لائے