جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 118 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 118

خلافت ثانیه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 118 کہیں کہیں قطعات موجود ہیں۔مگر خشکی کے بڑے بڑے قطعات نے پہلے قطعات آب کو ایک دوسرے سے جدا کر رکھا ہے خشکی زیادہ غالب اور وسیع تھی۔بعینہ ایسی صورت تھی جیسے کسی وسیع پر میدان میں کہیں کہیں آب باراں کی چھوٹی چھوٹی تلائیاں ہوں۔پھر ایک آواز تھی رعب و شوکت۔۔۔۔۔۔جو ایک اپنی میخ کی طرح میرے دل میں ایسی گر گئی کہ پھر بھی نہیں نکلی۔لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الاَ فُلَاكَ " اشارہ اس کا میرے آقا سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی فداہ روحی کی طرف تھا۔وہی ذات اقدس اور وجود اطہر جس کے متعلق غیب دان اور عالم اسرار ہستی پہلے ہی سے بطور پیش بندی دنیا جہان کو بتا کید کہہ چکی تھی۔مقام او مبیں از راه تحقیر بد ورانش رسولاں ناز کردند اس سردش اور ندائے حق کے بعد دوسرا نظارہ یہ تھا جو میرے سامنے لایا گیا کہ پہلا منظر بدل کر دوسرا سین نمودار ہو گیا۔جس میں خشکی کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی تھوڑی تھوڑی خستہ پستہ اور مغلوب مگر آب شفاف کے قطعات زیادہ وسیع ، نمایاں اور پر رونق و شاندار تھے اور میرے دل و دماغ پر یہ اثر تھا کہ یہ تغیر اور تبدیلی اس نوجوان انسان کی برکت وطفیل سے ہوگی جس کا وجود "لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک" کے کلام کے ساتھ میرے سامنے لاکھڑا کیا گیا تھا۔یہ ایک معاملہ تھا راز اور حقیقت تھی خفیہ جس کو میں صرف اپنے ایمان کی مضبوطی اور قلب کی طمانیت کے لئے فضل خداوندی سمجھ کر پوشیدہ اور بند ہی رکھنا چاہتا تھا۔میری کبھی یہ خواہش نہ تھی کہ گلی کوچوں میں اس زرو جواہر کے خزانے کو اچھالتا پھروں اور لوگوں کو دکھاتا رہوں۔کیونکہ میں خدا کے فضل سے ہمیشہ سے اس یقین اور عرفان پر تھا اور ہوں کہ مامورین اور مرسلین کے علاوہ عوام پر اگر خدا کا کوئی فضل ایسے رنگ میں ہوتا ہے تو وہ ان کی اپنی ذات اور ان کے اپنے علم و عرفان اور یقین و ایمان کی زیادتی مضبوطی یا تربیت واصلاح ہی کے لئے ہوتا ہے۔