جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 545
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 545 میں آتا ہے کہ وہاب صاحب اس طرح کے خیالات کے آدمی تھے۔وہ آرہے ہیں اور راستے میں رک کر جوان کے استقبال کے لئے کوئی اہم آدمی آگے بڑھا ہے تو اس کے کان کے قریب ہوکر کوئی بات کرتے ہیں تو میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ یہ انہیں کہہ رہے ہوں گے کہ ہمارے حضرت صاحب فوت ہو گئے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ یہی اعلان کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب وفات پاگئے ہیں۔یہ خبر سنتے ہی ہمارے ہوش اڑ گئے اور ہم ربوہ کی طرف واپس ہوئے۔صد صاحب کے پاس ان کی گاڑی ہے اور وہ تیز سپیڈ میں چلاتے ہیں میں انہیں تسلی دیتا ہوں کہ گاڑی آرام سے چلائیں ، دوران سفر گزرتے ہوئے CNN کی خبروں کی آواز کانوں میں پڑتی ہے تو وہ بھی حضور کی وفات کی ہی خبر دے رہے ہیں۔بہر حال ہم ربوہ پہنچتے ہیں مجھے یہ بھی خیال ہے کہ میں نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ ہوں اور مجھے جلد سے جلد ر بوہ پہنچنا چاہئے۔پھر میں اپنے آپ کو انتخاب کمیٹی میں پاتا ہوں۔رائے شماری کی بھی گویا ڈیوٹی میری لگی ہے اور میں ووٹ بھی شمار کرتا ہوں پانچ نام شاید پیش ہوئے ہیں اور کثرت رائے جس نام پر ہے وہ محترم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کا ہے لیکن جو اس وقت ان کا نام ہے وہ " علی " ہے اور ایک شرٹ بھی ان کو دی گئی ہے جو میرون کلر کی ہے۔ان کے نام کی اطلاع اعلان کے طور پر لکھ کر بھیجتا ہوں اور ساتھ ہی ایک اور خط بھی جس میں میں درخواست کرتا ہوں کہ میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ آپ خلیفہ بنے ہیں اور اس کے فوراً بعد آپ نے چائے میرے گھر پی ہے۔-ii قریباً چھ سات ماہ ہوئے میں نے اسی طرح کا ایک خواب دیکھا تھا جیسے قادیان کی بیت مبارک ہے اور اس کے اندر خلافت کا انتخاب ہو رہا ہے اور کسی کا انتظار ہے کچھ دیر کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب تشریف لاتے ہیں جیسے انہی کا انتظار ہورہا ہو، وہ بیت