جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 2
خلافت حقه اسلامیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 2 " تم میں نبوت قائم رہے گی۔جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھالے گا۔اور خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھالے گا۔پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہوگی جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے۔پھر جب یہ دور ختم ہوگا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم وستم کے دور کو ختم کر دے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔" ( مسند امام احمد بن حنبل جلد نمبر 4 صفحہ 273 ومشکوۃ باب الانذار والتحذیر ) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے قبل جماعت کے اندر روحانی خلافت کو قدرت ثانیہ کا نام دیا ہے اور قیامت تک جاری رہنے کی بشارت دی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔" تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔" (رساله الوصیت از روحانی خزائن جلد 20 صفحه 305) یہ الفاظ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد 27 مئی 1908ء کو اس وقت پورے ہوئے جب حضرت حکیم الحاج مولانا نورالدین صاحب پہلے خلیفہ مقرر ہوئے۔آپ کی وفات کے بعد 14 / مارچ 1914ء کو حضرت الحاج مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ کے بعد حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہو کر اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں اور اب اس قدرت کے پانچویں مظہر سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ اس مبارک مسند پر فائز ہیں۔