جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 1 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 1

خلافت حقه اسلامیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم 1 ابتدائیہ اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور اس نور کو دنیا میں پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ جاری فرمایا۔جس کے تحت اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے انبیاء مبعوث فرما تا رہا ہے اور جب وہ اپنا وقت پورا کر کے اس دُنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے نور کو دنیا میں جاری وساری رکھنے کے لئے ان کی جگہ کچھ اور لوگوں کو کھڑا کرتا ہے جو خلفاء کہلاتے ہیں۔گویا حدیث نبوی "مَـامِـنْ نُبُوَةٍ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خِلَافَةٌ" ( کنز العمال) کے تحت ہرنبوت کے بعد خلافت ہے جو آسمانوں اور زمین میں پھیلے اللہ تعالیٰ کے نور کو دور تک پہنچاتی ہے گویا نبوت چمنی ہے اور خلافت ری فلیکٹر ہے جو نور کو دُور تک پہنچاتا ہے۔جیسے حضرت موسیٰ کے بعد یوشع بن نون اور حضرت مسیح ناصری کے بعد پطرس خلیفہ مقرر ہوئے اور عیسائیوں میں آج تک "پوپ" کی صورت میں ظاہری طور پر یہ سلسلہ جاری ہے اور الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام " کلیسا کی طاقت کا نسخہ " میں دراصل ان کی اسی خلافت کا ہی ذکر ہے۔آج مسیح محمدی کی وفات کے بعد بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے خلافت کا سلسلہ جاری فرمایا جو اپنی مہمات میں طاقت کا نسخہ ثابت ہورہا ہے۔یہ خلافت در حقیقت تسلسل ہے اس خلافت مبارکہ کا جو آقا ومولیٰ سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جاری ہوئی جو خلافت راشدہ کہلاتی ہے یہ خلافت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے شروع ہوئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ختم ہوئی اس کے بعد خلافت کا دوسرا دور شروع ہوا جو روحانی دور تھا جس میں سیاسی طاقت شامل نہیں تھی۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ زمانے میں یہ پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔