جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 279
خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خوابیں اور الہی اشارے احمدیہ ۵۲ مکرم عبد الباری صاحب احمدی معرفت ستار جنرل سٹور صدر بازار کمالیہ ضلع لائل پور (فیصل آباد ) 279 میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ یکم تا 10 جنوری 1965ء کی رات ساڑھے تین بجے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کمالیہ میں ایک گلی میں کھڑا ہوں اور میرے پاس الفضل کا پرچہ ہے۔جس میں لکھا ہے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی وفات پاگئے ہیں۔میں بہت پریشان ہوتا ہوں۔پھر میں مسجد یہ منٹگمری میں اپنے آپ کو پاتا ہوں اور احباب کو حضور کی وفات کے متعلق بتا رہا ہوں۔اس کے بعد دیکھتا ہوں کہ احباب جماعت احمد یہ منٹگمری ربوہ گول بازار اور پھاٹک کے درمیان کھڑے ہیں اور بہت آوازیں آرہی ہیں کہ اب کے کیا ہوگا؟ کہ اچانک ایک سفید کاغذ لوگوں میں سے نکل کر لوگوں کے سروں پر جا کر رک جاتا ہے۔لوگ اسے دیکھتے ہیں مگر وہ سفید ہی ہوتا ہے تھوڑی دیر بعد اس پر آہستہ آہستہ " مرزا ناصر احمد " لکھا جاتا ہےاور لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ii۔آج سے تین چار ماہ قبل خواب میں دیکھا کہ میں اپنے سونے والے کمرہ میں ہوں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایک چارپائی پر لیٹے ہیں اور میں پائنتی کی طرف کھڑا ہوں۔حضور نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا عبدالباری میں ایک بات کہوں تو مانو گے؟ میں نے عرض کی۔حضور ! میری جان آپ پر قربان کیوں نہیں آپ جو فرمائیں گے مانوں گا۔حضور نے فرمایا! " میرا خیال ہے کہ میرے بعد جماعت میں تفرقہ نہ ہواس لئے میں چاہتا ہوں کہ کوئی وصیت کر جاؤں۔میں نے کہا!ہاں یا حضرت کیوں نہیں۔آپ فرمانے لگے! " میرے بعد مرزا ناصر احمد کو خلیفہ بنالینا اور یہ درست رہے گا۔"