جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 237 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 237

خلافت ثالثه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے خلافت ثالثہ کے قیام کی تائید میں رویا و کشوف اور خوا ہیں حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں۔237 اب ہم دو ر ڈ یا کشوف اور الہامات درج کرتے ہیں جو جماعت احمدیہ کے افراد کو سیدنا حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ امسح الثالث کے خلیفہ امیج منتخب ہونے سے پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھائے گئے تھے۔حدیث نبوی المومن یری ویری له " کے مطابق ویسے تو ہر مومن کچھ نہ کچھ رویائے صادقہ سے حصہ پاتا ہے اور کبھی اس کے بارے میں دوسروں کو ر ڈ یا دکھائی جاتی ہیں اور آيت لهم البشرى فى الحیوۃ الدنیا میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ مومنوں کو اسی دنیا میں رویا کے ذریعہ بشارات دی جاتی ہیں۔لیکن خلافت کی اہمیت اور خدائی منشاء کے اظہار کے لئے اور انتخاب کے بارے میں رہنمائی اور مومنین کے ازدیاد ایمان کے لئے ایسے موقعہ پر کثرت سے خوا ہیں ، کشوف اور الہامات ہوتے ہیں۔ان رؤیا کو ہم حدیث نفس یا اضغاث احلام یا شیطانی وسوسہ اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک یا دو افراد کا معاملہ نہیں۔سینکڑوں افراد جو دیانت اور تقویٰ کا ایک معیار رکھتے ہوں۔مختلف مقامات پر مختلف وقتوں میں مختلف طریقوں سے ایک ہی مفہوم کی خواب دیکھیں اور ایک ہی مفہوم کے الہامات اور القاء پائیں تو وہ رؤیا ، کشوف اور الہامات سب کے سب منجانب اللہ اور سچے ہوں گے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ علوم ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جائے گا اپنے "حقیقۃ الرؤیا" کے معرکتہ الآراء لیکچر میں خوابوں اور الہامات کی صداقت معلوم کرنے کے طریق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سچی خواب کی " پانچویں علامت یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک مومن کو ایک رؤیا آتی ہے اور اُسی مضمون کی دوسروں کو بھی آجاتی ہے۔اور یہ شیطان کے قبضہ میں نہیں