جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 222 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 222

خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے 222 اس الہام میں مجھے حسن رضی اللہ عنہ کا بروز کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ذات کے ساتھ تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کو پورا کرے گا۔اور میرا انجام بہترین ہوگا اور جماعت میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوگی۔فالحمد للہ علی ذالک ( تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 571)۔۔۔۔۔۔ایسے وقت میں جو درحقیقت اچھا وقت تھا حضور نے وفات پائی۔۔۔۔اور نہایت خیر و خوبی سے انتخاب خلیفہ کا کام سرانجام پایا۔الحمد للہ م محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے تصرف سے جماعت احمدیہ کو پھر ایک ہاتھ پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ایک زلزلہ کے بعد جماعت احمدیہ نے قدرت ثانیہ کے مظہر ثالث سے سکینت پائی۔حضرت خلیفہ اصسیح الثانی المصلح الموعود نے خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر انتخاب خلافت کے لئے جماعت کی نمائندہ ایک مجلس مرتب فرمائی تھی۔جو صدرانجمن احمدیہ کے ناظر صاحبان تحریک جدید کے وکلاء ، بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کا شرف حاصل کرنے والے مبلغین۔صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور 1901ء سے پہلے کے صحابہ کرام کے بڑے فرزند اور امراء جماعت وغیر ہم پر مشتمل تھی۔نمائندگان کی بھاری اکثریت یعنی 205 افراد 24 گھنٹے کے اندر انتخاب کے لئے پہنچ گئے تھے۔جن کی بڑی اکثریت نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے فرزند اکبر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کو مسیح موعود کا خلیفہ ثالث منتخب کیا۔خلافت ثالثہ کے انتخاب کے موقعہ پر ایسا ہی نظارہ دیکھنے میں آیا۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ کوئی غیبی طاقت تمام قلوب پر متصرف ہے اور خدا تعالیٰ کے فرشتے دلوں پر سکینت نازل کر رہے ہیں۔الحمد للہ کہ خلیفہ ثالث کا انتخاب عین منشاء خداوندی کے مطابق ہوا جس کا ثبوت یہ بھی