جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 202 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 202

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 202 یہ کیا غضب کر دیا ہے میں نے کہا کہ میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔میری بیوی موجود ہے اس سے دریافت کرلو۔اس پر وہ خاموش ہو گئے اس کے بعد میں نے قادیان پہنچ کر حضور کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔" (الفضل 08 ستمبر 1956ء) ۶۲ مکرم قریشی بشیر احمد صاحب دہلوی پیشاور کینٹ کا خواب " خاکسار جب جوان ہوا تو دنیا سے دل برداشتہ ہو گیا۔اور دل میں ایک تڑپ تھی۔کہ اگر خدا تعالیٰ ہے تو وہ مجھے ملے۔دہلی چونکہ مرکزی شہر تھا اور بائیس خوا جاؤں کی چوکھٹ کہلاتا ہی تھا۔اس لئے وہاں کے علماء سے ملا۔وظیفے کئے عشاء کے بعد سے ہزاروں دانوں کی تسبیح لے کر بیٹھنا اور فجر ہو جاتی۔ہو حق کی جگہوں پر بھی چلے کاٹے۔مگر دلی مقصود نہ پایا۔اب میں ایسے مقام پر تھا کہ پکا دہر یہ ہو جاؤں 1942 ء میں لاہور CMA میں ملازم ہوا۔احمد یہ بلڈنگس میں جلسے سے کچھ ان کا لٹریچر پڑھا۔میرے بڑے بھائی صاحب مسلم ہائی سکول میں ٹیچر تھے۔اور انہی کے ساتھ میں رہتا تھا۔مولوی آفتاب الدین صاحب مرحوم سے دوستی ہوگئی۔میں جماعت پیغام میں شامل ہو گیا۔کم و بیش ایک سال رہا۔اس تمام عرصہ میں کسی نے مجھ سے یہ نہیں کہا، کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب مقدسہ کا مطالعہ کروں۔جس قدر کتب دستیاب ہوتیں۔وہ جماعت کے لوگوں کی تصانیف ہوتیں۔ان سے میری تسکین نہ ہوئی۔بالآخر میں نے ایک روز مولوی آفتاب الدین صاحب سے اس کا ذکر کیا۔مولوی صاحب فرمانے لگے۔انجن پڑی پر