جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 16
خلافت حقه اسلامیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ہے جس حالت میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (الواقعہ: 41-40) 16 تو پھر اس کے مقابل پر کوئی حدیث پیش کرنا اور اس کے معنی مخالف قرآن قرار دینا معلوم نہیں کہ کس قسم کی سمجھ ہے اگر حدیث کے بیان پر ہی اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ هَذَا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِيُّ۔اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد كتاب اللہ ہے لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی ہے علماء کو اُس میں کئی طرح کا جرح ہے اور اس کی صحت میں کلام ہے۔کیا معترض نے غور نہیں کی جو آخری زمانہ کی نسبت بعض خلیفوں کے ظہور کی خبر میں دی گئی ہیں کہ حارث آئے گا مہدی آئے گا۔آسمانی خلیفہ آئے گا۔یہ خبریں حدیثوں میں ہیں یا کسی اور کتاب میں۔احادیث سے یہ ثابت ہے کہ زمانے تین ہیں۔اوّل خلافت راشدہ کا زمانہ۔پھر فیج اعوج جس میں ملک عضوض ہوں گے اور بعد اس کے آخری زمانہ جو زمانہ نبوت کے نہج پر ہو گا۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت کا اوّل زمانہ اور پھر آخری زمانہ باہم بہت ہی متشابہ ہیں اور یہ دونوں زمانے اس بارش کی طرح ہیں جو ایسی خیر و برکت سے بھری ہوئی ہو کہ کچھ معلوم نہیں کہ برکت اس کے پہلے حصہ میں زیادہ ہے یا پچھلے میں۔اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ اللہ جلشانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكُرَوَانَّالَهُ لَحَا فِظُونَ (الحجر:10)