جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 137
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 137 که " فضل احمد آج تم کہاں سے آتے ہو۔" میں نے عرض کیا کہ حضور قادیان سے آرہا ہوں۔پھر فرمایا: قادیان کا کیا حال ہے؟ تو میں نے عرض کیا کہ حضور ہم نے میاں صاحب کو اپنا امام بنایا ہے۔مگر افسوس کہ بعض احباب حضور میاں صاحب کی سخت مخالفت کر رہے ہیں (غصہ کی آواز میں فرمایا ) کہ تم واپس قادیان کب جاؤ گے۔میں نے عرض کیا کہ حضور پرسوں کو ضرور ہی چلا جاؤں گا۔پھر مجھ سے فرمایا کہ جب قادیان پہنچو تو ان سے کہ دینا۔"دیکھو جو ہمارے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوگا انشاء اللہ وہ ضرور ہی تباہ ہو جائے گا ہم کو لوگ آزما نہیں چکے۔" اور میاں صاحب کو کہہ دیتا کہ گھرانے کی کوئی بات نہیں ہم بھی ضرور پرسوں تک قادیان پہنچ جائیں گے۔پھر میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس نے اسٹیشن سیالکوٹ سے مجھ کو قادیان کا ٹکٹ لے کر عنایت فرمایا۔اس وقت اسٹیشن پر حضور کے گردا گرد بہت لوگ جمع ہیں خدا جانے کہ وہ کیا چاہتے تھے مگر حضرت اقدس کے حکم کے منتظر تھے کہ میرا ٹائم میں بولنے لگا تو مجھے معلوم ہوا کہ صبح کے ساڑھے چار ہو گئے۔اس روز جمعہ کا دن تھا۔میں نے یہ اپنا خواب حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں لکھ کر پیش کیا اور اپنا فرض ادا کرنے کے لئے اجازت پا کرسبکدوش ہوا۔" (الحکم 14 اپریل 1914ء) ۱۵۔ماسٹر ہدایت اللہ صاحب گجرات کی رؤیا " کچھ عرصہ ہوا ہے کہ میں نے خواب میں ایک درخت دیکھا جو چھوٹا سا اور سفید رنگ کا