جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 136 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 136

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 136 خدمت میں سنائی تھی۔انہوں نے فرمایا کہ کیا ہم نام بتا دیں جو ہم نے لکھ رکھا ہے عرض کی کہ حضور ہم غیب پر ایمان رکھتے ہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔یہاں بروز منگل جنازہ پڑھا گیا۔اور جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مولوی صاحب نے جماعت کے روبرو فر مایا کہ درخواست حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں ارسال کی جاوے۔چنانچہ بصیغہ رجسٹری درخواست بیعت حضرت کی خدمت میں ارسال کی گئی ہے۔عاجز محمد اسحاق علی احمد بھیروی سعید منزل بی بی بازار حیدر آباد دکن عاجزانه درخواست کنندوں میں سے ایک ہے۔(الحکم 28 / مارچ 1914ء) ۱۴ حکیم فضل احمد صاحب کا تب قادیان کی رؤیا "19 اور 20 / مارچ 1914ء کی درمیانی شب کو میں نے دیکھا کہ گاڑی میں سے سیالکوٹ کے اسٹیشن پر میں اترا ہوں۔اور آرام کے لئے سرائے مہاراجہ کی طرف روانہ ہوا۔دیکھتا کیا ہوں کہ سرائے میں ایک عظیم الشان جلسہ ہو رہا ہے۔میں نے دیکھنا چاہا کہ یہ کیسا جلسہ ہے آدمیوں بیچوں بیچ زور سے ہیں جب آگے گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھ کو سامنے ایک نہایت نفیس چوکی پر بیٹھے ہوئے دکھائی دیئے اور ان کے داہنی جانب خلیفتہ اسیح کھڑے رو رہے ہیں اور زور زور سے ایک لیکچر کا مضمون پڑھ رہے ہیں۔جب میں نے یہ نظارہ دیکھا تو دل بے قرار نے حضور کی قدم بوسی کے لئے زور دیا، اور میں جوں توں کر کے حضور اقدس کے قدموں کے نزدیک پہنچ ہی گیا۔السلام علیکم اور مصافحہ کیا اور حضور نے میری طرف دیکھا اور فرمایا