رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 616

616 ہے غالباوہ سکھ تھے۔آنکھ کھلی تو اذان ہو رہی تھی۔الفضل 18۔مارچ 1960ء صفحہ1 655 ومبر 1960ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں اپنے گھر سے نکلا ہوں اور میرا خیال ہے کہ میں اپنے لئے کوئی مکان تلاش کروں جب میں باہر آیا تو میں نے دیکھا کہ ماسٹر محمد ابراہیم صاحب جمونی کھڑے ہیں اور لوگ ان کے پاس مکانوں کے لئے آتے جاتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس مکان ہیں انہوں نے وہ مکان انتظام کے لئے ان کے سپرد کئے ہوئے ہیں اور وہ آگے دو سروں کو دیتے ہیں میں نے بھی ان سے ذکر کیا کہ مجھے اپنے لئے مکان کی ضرورت ہے انہوں نے مجھے ایک مکان دکھایا جس کے چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں مگر ان کمروں پر چھت نہیں اور کمروں کی دیواروں پر چھوٹے چھوٹے کپڑے لٹکے ہوئے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کپڑے کیسے ہیں انہوں نے کہا چونکہ ان کمروں پر چھت نہیں اس لئے دھوپ کے وقت انہیں اوپر ڈال لیا جاتا ہے میں اس وقت اپنے دل میں خیال کرتا ہوں کہ یہ کمرے بے شک چھوٹے ہیں لیکن ہمارے کمرے تو اس سے بھی چھوٹے تھے اس وقت مجھے ربوہ کے وہ کچے مکان یاد آتے ہیں جن میں ہم پہلے رہائش رکھتے تھے لیکن ساتھ ہی میں کہتا ہوں کہ وہ کمرے روشن زیادہ تھے پھر میں کہتا ہوں وہ کمرے اس لئے روشن تھے کہ ان پر گیری کا سرخ رنگ لگا کر انہیں خوب چمکایا گیا تھا اور اندر سفیدی کی گئی تھی جب ان پر بھی رنگ کیا جائے گا اور اند رسفیدی ہو جائے گی تو یہ بھی روشن ہو جائیں گے اس کے بعد میں نے کسی کو کہتے سنا کہ۔جو قوم ہجرت کے لئے تیار رہتی ہے اور نو آبادی کا شعرت سے اشتیاق رکھتی ہے وہ کبھی تباہ نہیں ہوتی" جب میں نے یہ سنا تو مجھے خیال آیا کہ ہجرت کے لئے تیار رہنے کے یہ معنے نہیں کہ وہ ہجرت پر خوش ہوتے ہیں یا ہجرت کی اپنے دلوں میں خواہش رکھتے ہیں چنانچہ خواب میں ہی مجھے صحابہ کا خیال آیا کہ انہیں بھی ہجرت کرنی پڑی تھی مگر حدیثوں میں آتا ہے کہ مدینہ آکر بعض صحابہ مکہ کی یاد میں رویا کرتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خوشی سے نہیں بلکہ حالت کی مجبوری کی وجہ سے ہجرت کی تھی پس جب اس نے یہ کہا کہ جو قوم ہجرت کے لئے تیار رہتی ہے