رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 604

604 638 مئی 1957ء فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ جماعتیں ہندوستان میں داخل ہو رہی ہیں بعض آزاد کشمیر کی طرف سے بعض سندھ کی طرف سے اور بعض ضلع فرید پور بنگال کی طرف سے جو ضلع کہ کلکتہ سے ملتا ہے اور بعض امر تسر اور فیروز پور کی طرف سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جماعتیں میرے سامنے لائی گئی ہیں اور میں انہیں کہتا ہوں کہ ہندوستان سے ظالمانہ طور پر نکالے جانے کی وجہ سے مسلمانوں کے ذہنوں پر مایوسی چھا گئی ہے ان کو ایک انگریز جرنیل کا واقعہ یا د رکھنا چاہئے جو سپین میں لڑا تھا اور نپولین کی فوجوں کے مقابلہ میں اس کی فوج بہت کچھ ماری گئی تھی اور تھوڑی سی رہ گئی تھی۔اس نے اپنی فوجوں کو نصیحت کی تھی کہ تم میں سے ایک فریق کے لوگ یہ آواز بلند کریں کہ کیا ہم دل ہار بیٹھے ہیں اور دوسرے فریق کے لوگ کہیں ہرگز نہیں آپ لوگ بھی ہندوستان میں اسی طرح داخل ہوں کہ ایک طرف کے لوگ کہیں گے کہ کیا ہمارے ذہن شکست خوردہ حالت میں ہیں اور دوسرے فریق کے لوگ جواب دیں کہ نہیں۔اس وقت میرے پہلو میں کسی شخص نے کہا کہ یہ واقعہ پین میں نہیں گزرا بلکہ روس میں گزرا ہے بہر حال یہ رویا میں نے دیکھی جو میں احباب کے لئے شائع کرتا ہوں جس وقت میں یہ باتیں اس پاکستانی جماعت سے کر رہا تھا جو مجھے نظر نہیں آ رہی تھی میں یہی سمجھتا تھا کہ واقع میں پاکستانی جماعتیں ہندوستان میں داخل ہو رہی ہیں اور میں ان کے حوصلے بلند کرنے کے لئے یہ بات کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس کی تعبیر کیا ہے۔الفضل 30۔مئی 1957 ء صفحہ 3 639 اگست 1957ء فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی پیٹھ کے پیچھے ایک پہاڑی ٹیلہ ہے اس پر کچھ لوگ بیٹھے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ پیغامی ہیں اس وقت میرے دل میں خیال گزرا کہ پیغامیوں کے لئے تو خدا نے شکست رکھی ہے یہ ٹیلہ پر کیوں بیٹھے ہیں تب میں نے حضرت خلیفہ اول کو مخاطب کر کے یہی بات کہی کہ قرآن کے عین وسط میں تو لکھا