رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 54

54 ہو ہمیں اس بات کے لئے بڑی غیرت رکھنا چاہئے کہ ہماری ملکی زبان خراب نہ ہو۔الفضل 13۔جون 1919ء صفحہ 4 92 +1919 فرمایا : تھوڑے سے عرصہ میں باحیثیت اور بااثر لوگوں کا جماعت میں داخل ہونا دراصل میرے ایک رؤیا کی تعبیر ہے جو میں نے مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنایا تھا۔میں نے ایک لمبی دعا کی تھی جس میں یہ بھی کہا تھا مَتی نَصْرُ الله اس پر مجھے چوہدری نصر اللہ خاں صاحب دکھلائے گئے۔اس میں میں نے یہ دعا بھی کی تھی کہ ہمارے سلسلہ میں امراء داخل نہیں ہیں الہی ! ان کے دلوں کو کھول دے اور انہیں حق کے قبول کرنے کی توفیق بخش۔اس کے بعد جلد ہی کئی اصحاب داخل ہوئے اور حال ہی میں ایک خان بہادر اور آنریری مجسٹریٹ نے بیعت کی ہے۔الفضل 13۔جون 1919 ء صفحہ 5 اوائل فروری 1920ء 93 فرمایا : کچھ ہی دن ہوئے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک آدمی سے علیحدہ ہو کر باتیں کر رہاں ہوں اس کو کچھ ابتلاء آیا ہے اس لئے میں اس کی دلجوئی کر رہا ہوں کہ اتنے میں ایک معزز آدمی آیا مجھے دوسرے آدمی کی طرف متوجہ دیکھ کر اسے برالگا ہے کہ میری پرواہ نہیں کی گئی۔میں نے اسے کہا دیکھو جماعتیں افراد سے بنتی ہیں اگر افراد کا خیال نہ رکھا جائے اور وہ تباہ ہو جائیں تو جماعتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔پھر میں نے اسے کہا جسمانی نظام کا روحانی نظام سے بڑا تعلق ہوتا ہے اس کے متعلق بتاتے ہوئے میں نے یہاں تک کہا ہے کہ بعض باتیں جو عام لوگوں کے لئے گناہ نہیں ہوتیں وہ ان کے لئے گناہ ہو جاتی ہیں جو روحانیت میں ترقی کر لیتے ہیں مثلا ان کا زائد لقمہ کھانا بھی گناہ ہو جاتا ہے۔ان کی اپنی صحت کی پرواہ نہ کرنا بھی گناہ ہوتا ہے۔درس القرآن (سوره نور و فرقان) مطبوعہ 1921ء صفحہ 46